ویب ڈیسک: مہذب معاشروں میں گالیاں بکنا عموماً ایک غلط اور نفرت انگیز عمل سمجھا جاتا ہے، لیکن ایک نئی تحقیق کے مطابق، یہ عمل بعض حالات میں انسان کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
جرنل امریکن سائیکولوجسٹ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ماہرینِ نفسیات نے اس بات کا انکشاف کیا کہ گالیاں بکنا انسانی صحت اور کارکردگی کے لیے مخصوص حالات میں فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
برطانیہ کی کیلی یونیورسٹی کے ماہرِ نفسیات رچرڈ اسٹیفنز اور ان کے ساتھیوں نے 192 افراد پر ایک تجربہ کیا۔ اس میں انہوں نے دو گروہ بنائے: ایک گروہ سے کہا کہ وہ کرسی پر پش اپس لگاتے وقت ہر دو سیکنڈ بعد اپنی پسند کی گالی دہرائیں، جبکہ دوسرے گروہ سے غیر جانبدار لفظ دہرانے کو کہا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد نے گالیاں بکیں، وہ اپنے جسمانی وزن کو زیادہ دیر تک سہارا دے سکے، اس کے مقابلے میں جو لوگ غیر جانبدار الفاظ دہرا رہے تھے۔
اسٹیفنز نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ گالی یا سخت الفاظ انسان کو زیادہ پراعتماد، مرکوز اور پرعزم بنا سکتے ہیں، جس سے وہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ کسی مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
اس تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ گالی گلوچ صرف جذباتی ردعمل نہیں بلکہ ایک ایسا ’’کیلوری نیوٹرل‘‘ طریقہ ہو سکتا ہے جو جسمانی سرگرمیوں کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔