ویب ڈیسک: یورپین پارلیمنٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کے حصول کے مطالبے اور یورپی اتحادیوں پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں کے خلاف احتجاجاً امریکا کے ساتھ یورپی یونین کے مجوزہ تجارتی معاہدے پر پیش رفت روک دی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق بدھ کے روز یورپین پارلیمنٹ نے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدے پر قانون سازی کا عمل مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ اقدام صدر ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق مطالبات اور ان یورپی ممالک کے خلاف ممکنہ امریکی ٹیرف کے اعلان کے بعد سامنے آیا جنہوں نے اس منصوبے کی مخالفت کی تھی۔
یورپی پارلیمنٹ میں اس معاہدے کے تحت امریکی مصنوعات پر یورپی درآمدی ڈیوٹیز میں نمایاں کمی کی تجاویز پر غور جاری تھا، جو جولائی کے آخر میں اسکاٹ لینڈ کے علاقے ٹرن بیری میں طے پانے والے معاہدے کا اہم حصہ تھیں۔
ان تجاویز میں امریکی لابسٹرز پر زیرو ڈیوٹی کی مدت میں توسیع بھی شامل تھی، جس پر ابتدائی اتفاق 2020 میں ہوا تھا۔ ان اقدامات کی منظوری کے لیے یورپی پارلیمنٹ اور رکن ممالک دونوں کی منظوری درکار ہے۔
متعدد یورپی قانون سازوں نے اس معاہدے کو غیر متوازن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت یورپی یونین کو زیادہ تر درآمدی محصولات ختم کرنا ہوں گے، جبکہ امریکا مجموعی طور پر 15 فیصد ٹیرف برقرار رکھے گا۔
اس کے باوجود ماضی میں بعض اراکین مخصوص شرائط کے ساتھ معاہدہ قبول کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے تھے، جن میں 18 ماہ کی مدت اور امریکی درآمدات میں ممکنہ اضافے سے نمٹنے کے اقدامات شامل تھے۔
یورپین پارلیمنٹ کی ٹریڈ کمیٹی 26 اور 27 جنوری کو ووٹنگ کے ذریعے اپنی حتمی پوزیشن طے کرنے والی تھی، تاہم اب یہ عمل مؤخر کر دیا گیا ہے۔
ٹریڈ کمیٹی کے چیئرمین برنڈ لانگے نے بدھ کو نیوز کانفرنس میں کہا کہ امریکا کی جانب سے نئی ٹیرف دھمکیوں نے ٹرن بیری معاہدے کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث اس پر کام تاحکمِ ثانی روک دیا گیا ہے۔
یورپین پارلیمنٹ کے اس فیصلے سے امریکا کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ معاہدے کی معطلی ممکنہ طور پر امریکی ردِعمل کو جنم دے سکتی ہے۔ امریکی انتظامیہ پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ معاہدے کے نفاذ تک اسپرٹ یا اسٹیل پر ٹیرف میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔