گردشی قرضہ ختم کرنے کیلئے گیس صارفین پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری

گردشی قرضہ ختم کرنے کیلئے گیس صارفین پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری
کیپشن: گردشی قرضہ ختم کرنے کیلئے گیس صارفین پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری

ویب ڈیسک: حکومت نے گیس شعبے کے 2800 ارب روپے کے گردشی قرضے کے حل کیلئے جامع منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس کے تحت بجلی کے شعبے کی طرز پر گیس کے شعبے میں بھی صارفین پر مالی بوجھ ڈالا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق ایک خصوصی ٹاسک فورس، جس میں سابق لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال، وزیرِ نجکاری محمد علی، سی پی پی اے، ایس ای سی پی اور نیپرا کے ماہرین شامل ہیں، مختلف تجاویز پر کام کر رہی ہے۔

منصوبے کے تحت 2000 ارب روپے کے قرضے کے حصے کو بینکوں سے قرض لے کر ختم کیا جائے گا، اور اس کی واپسی اگلے سات سال تک عوام سے پیٹرولیم مصنوعات پر خصوصی لیوی کی صورت میں کی جائے گی۔

لیوی کی شرح 3 سے 10 روپے فی لیٹر تجویز کی گئی ہے، جس سے سالانہ 180 ارب روپے تک جمع کیے جا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی گیس کی قیمتوں میں اضافے اور موجودہ 160 ارب روپے کی کراس سبسڈی کو مرحلہ وار ختم کرنے پر بھی غور جاری ہے۔

یہ سبسڈی 2026 کے اختتام تک ختم کر کے 2027 سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کی بنیاد پر صرف مستحق افراد کو دی جائے گی۔

گردشی قرضے میں شامل باقی 800 ارب روپے سرچارج اور سود کی مد میں ہیں، جنہیں جزوی طور پر معاف یا ادا کر کے نمٹایا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر تمام صارفین سے اوسطاً 1890 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو گیس چارج کی جائے تو دوبارہ گردشی قرضہ پیدا نہیں ہوگا، تاہم سیاسی دباؤ کے باعث یہ فیصلہ مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ سوال بھی زیر غور ہے کہ اصلاحات کے بعد غیر مؤثر گیس کمپنیاں اسی نظام کے تحت چلیں گی یا انہیں تقسیم اور ترسیل سے الگ کر کے نجی شعبے کو سونپا جائے گا، جس کا حتمی فیصلہ ٹاسک فورس کرے گی۔

Watch Live Public News