نئی تحقیق میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کے طویل عرصے تک استعمال سے متعلق خدشات کا اظہار

نئی تحقیق میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کے طویل عرصے تک استعمال سے متعلق خدشات کا اظہار
کیپشن: نئی تحقیق میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کے طویل عرصے تک استعمال سے متعلق خدشات کا اظہار

ویب ڈیسک: ایک نئی تحقیق میں ڈپریشن کے علاج میں استعمال ہونے والی اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کے طویل عرصے تک استعمال سے متعلق کئی اہم خدشات سامنے آئے ہیں۔

محققین کے مطابق ان ادویات کے طویل مدتی فوائد شاید اتنے مؤثر نہ ہوں جتنا پہلے سمجھا جاتا تھا، جبکہ ان کے طویل استعمال سے بعض صحت کے خطرات اور دوا ترک کرنے پر شدید علامات بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 33 کروڑ سے زائد افراد ڈپریشن کا شکار ہیں، جن میں بڑی تعداد روزانہ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات استعمال کرتی ہے۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خواتین میں ان ادویات کا استعمال مردوں کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ پایا جاتا ہے۔

امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ممالک میں کئی مریض برسوں تک یہ ادویات استعمال کرتے رہتے ہیں، تاہم نئی سائنسی تحقیق اس تصور کو چیلنج کر رہی ہے کہ یہ ادویات دماغ میں سیروٹونن کی کمی کو پورا کر کے اپنا اثر دکھاتی ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ اب سامنے آنے والے شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اینٹی ڈپریسنٹس کے اثرات سے متعلق بعض پرانے نظریات مکمل طور پر درست نہیں ہو سکتے، جس کے بعد ان کی طویل مدتی افادیت پر طبی ماہرین کے درمیان نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

تحقیق میں یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ طویل عرصے تک یہ ادویات استعمال کرنے والے افراد کو دوا اچانک بند کرنے کی صورت میں شدید اور پیچیدہ علامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو بعض مریضوں میں غیر معمولی طور پر طویل اور سنگین ہو سکتی ہیں۔

ماہرین صحت نے زور دیا ہے کہ مریض کسی بھی صورت میں معالج کے مشورے کے بغیر اینٹی ڈپریسنٹ ادویات اچانک بند نہ کریں، کیونکہ اس سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق طبی ماہرین کو چاہیے کہ وہ مریضوں کے علاج کے منصوبوں کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور کم از کم ہر چھ ماہ بعد یہ تعین کریں کہ آیا متعلقہ مریض کے لیے ان ادویات کا استعمال اب بھی ضروری اور فائدہ مند ہے یا نہیں۔

Watch Live Public News