’جادوئی مشروم‘ کیموتھراپی کے شدید دردناک سائیڈ ایفیکٹ کو روکنے میں مددگار، نئی تحقیق آگئی

’جادوئی مشروم‘ کیموتھراپی کے شدید دردناک سائیڈ ایفیکٹ کو روکنے میں مددگار، نئی تحقیق آگئی

(ویب ڈیسک) کینسر کے علاج کے دوران مریضوں کو درپیش انتہائی تکلیف دہ اور جان لیوا اعصابی درد سے نجات کے لیے سائنسدانوں نے ایک غیر معمولی پیشرفت کی ہے، جس کے تحت ’جادوئی مشروم‘ (Magic Mushrooms) میں پایا جانے والا قدرتی جزو کیموتھراپی سے ہونے والے اعصابی بگاڑ کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

معروف بین الاقوامی سائنسی جریدے 'سائنس' (Science) میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یونیورسٹی آف ٹیکساس کے محققین نے انکشاف کیا ہے کہ جادوئی مشروم میں موجود فعال مرکب سائلو سائبن (Psilocybin) کینسر کے مریضوں کے اعصاب کو کیموتھراپی سے پہنچنے والے مستقل نقصان سے بچا سکتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کیموتھراپی کروانے والے تقریباً دو تہائی کینسر مریض 'پیریفیرل نیوروپیتھی' کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے ہاتھوں اور پاؤں میں شدید سو سوئیاں چبھنے کا احساس، بے حسی اور ناقابلِ برداشت درد ہوتا ہے۔

یونیورسٹی آف ٹیکساس کے محقق ڈاکٹر موران امیت کے مطابق اس وقت دنیا میں کیموتھراپی سے ہونے والے اعصابی نقصان کا کوئی مؤثر علاج موجود نہیں ہے۔ نئی دریافت اس لیے گیم چینجر ہے کیونکہ یہ تکلیف شروع ہونے کے بعد علامتوں کا علاج کرنے کے بجائے اعصاب کو نقصان پہنچنے سے پہلے ہی ڈھال بن کر محفوظ رکھتی ہے۔

تجربات کے دوران سائلو سائبن کی دو خوراکوں نے سیروٹونن سگنلنگ کے ذریعے جسم کے پیریفیرل اعصابی نظام کو براہِ راست تحفظ فراہم کیا اور کیموتھراپی کے زہریلے اثرات سے اعصاب کو تباہ ہونے سے بچا لیا۔

محقق ڈاکٹر پیٹرک ڈوہرٹی کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار محض درد کے سگنلز کو دبانے تک محدود نہیں بلکہ اعصاب کو براہِ راست توانائی فراہم کر کے زندہ رکھتا ہے، جس سے کینسر کے مریض علاج کے دوران اور صحت یابی کے بعد بھی ہاتھ پاؤں کی حس اور نقل و حرکت برقرار رکھ سکیں گے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ دریافت مستقبل میں کینسر کے مریضوں کے لیے کیموتھراپی کے عمل کو درد سے پاک اور قابلِ برداشت بنانے میں انقلابی کردار ادا کرے گی۔

Watch Live Public News