کینسر کے مریضوں کی بقا کا اندازہ لگانے کے لیے سیلفیز کا استعمال کرنے والی نئی ٹیکنالوجی تیار

کینسر کے مریضوں کی بقا کا اندازہ لگانے کے لیے سیلفیز کا استعمال کرنے والی نئی ٹیکنالوجی تیار
کیپشن: کینسر کے مریضوں کی بقا کا اندازہ لگانے کے لیے سیلفیز کا استعمال کرنے والی نئی ٹیکنالوجی تیار

ویب ڈیسک: امریکا میں سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک نیا نظام تیار کیا ہے، جو مریض کے چہرے کی ایک تصویر کا تجزیہ کرکے کینسر کے مریضوں کی بقا کے امکانات کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ تاہم، ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ڈاکٹروں کا متبادل نہیں ہے۔

یہ نظام میساچوسٹس جنرل بریگھم کے محققین نے تیار کیا ہے، جسے 4 کروڑ سے زائد چہروں کی تصاویر کی مدد سے تربیت دی گئی، جبکہ 30 ہزار سے زائد کینسر مریضوں کی تصاویر اور طبی معلومات کے ذریعے اس کی جانچ کی گئی۔

تحقیقی جریدے ’دی لینسیٹ ڈیجیٹل ہیلتھ‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ ٹیکنالوجی چہرے کی باریک خصوصیات کا تجزیہ کرکے حیاتیاتی عمر اور کینسر کے مریضوں کی بقا کے امکانات سے متعلق اندازے لگاتی ہے۔

محققین نے اس مقصد کے لیے دو ٹولز تیار کیے ہیں۔ پہلا چہرے کی ظاہری حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگاتا ہے، جبکہ دوسرا کینسر کے مریضوں کے چہرے کی خصوصیات کی بنیاد پر ان کی بقا کے امکانات سے متعلق پیش گوئی کرتا ہے۔

تحقیق کے مطابق آنکھوں کے نیچے اور ناک کے اطراف کے حصے کی خصوصیات ان اندازوں میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ تمباکو نوشی، الکحل کے زیادہ استعمال اور منشیات کا تعلق بھی چہرے پر قبل از وقت بڑھاپے کی علامات سے سامنے آیا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ نظام نہ تو کینسر کی تشخیص کرتا ہے اور نہ ہی کسی مریض کی زندگی کا درست دورانیہ بتاتا ہے، بلکہ مختلف مریضوں میں ایسے نمونوں کی نشاندہی کرتا ہے جن کا بقا کے نتائج سے تعلق ہوسکتا ہے۔

مستقبل میں اس ٹیکنالوجی سے یہ اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے کہ کوئی مریض پیچیدہ علاج برداشت کرنے کے لیے جسمانی طور پر کتنا موزوں ہے۔ تاہم، اسپتالوں میں معمول کے استعمال سے پہلے اس کی مزید جانچ اور تحقیق ضروری ہے۔

Watch Live Public News