ویب ڈیسک: امریکی دوا ساز کمپنی میرم فارماسیوٹیکلز نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی تجرباتی دوا بریلوویٹوگ (Brelovitug) نے دائمی ہیپاٹائٹس ڈی کے مریضوں میں وائرس کی سطح کم کرنے اور جگر کے انزائمز معمول پر لانے کے حوصلہ افزا نتائج دیے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق آخری مرحلے کے کلینیکل ٹرائل میں 24 ہفتوں کے دوران 300 ملی گرام خوراک لینے والے 56 فیصد مریضوں میں وائرس کی سطح میں کمی اور جگر کے انزائمز معمول پر آنے کے دونوں اہداف حاصل ہوئے۔ 900 ملی گرام خوراک لینے والے گروپ میں یہ شرح 45 فیصد رہی، جبکہ تاخیر سے علاج حاصل کرنے والے گروپ میں کوئی مریض دونوں اہداف حاصل نہیں کرسکا۔
کمپنی کے مطابق بریلوویٹوگ ایک تجرباتی مونوکلونل اینٹی باڈی ہے، جو ہیپاٹائٹس بی وائرس کی سطح پر موجود ایک پروٹین کو ہدف بناتی ہے۔ دوا کو دائمی ہیپاٹائٹس ڈی کے علاج کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔
ہیپاٹائٹس ڈی ایک نسبتاً نایاب وائرل انفیکشن ہے جو صرف ہیپاٹائٹس بی سے متاثرہ افراد میں ہوسکتا ہے۔ یہ بیماری جگر کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے اور بعض صورتوں میں جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔
کمپنی کے مطابق مختلف خوراکوں میں دوا مجموعی طور پر مریضوں کے لیے قابلِ برداشت رہی اور اس کی حفاظتی خصوصیات پہلے جاری کیے گئے اعداد و شمار سے مطابقت رکھتی ہیں۔
میرم فارماسیوٹیکلز کا کہنا ہے کہ مطالعے کے مکمل نتائج آئندہ ایک طبی کانگریس میں پیش کیے جائیں گے، جبکہ کمپنی 2027 کی پہلی ششماہی میں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) سے دوا کی منظوری کے لیے درخواست دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔