ویب ڈیسک: ڈنمارک میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جسم میں چربی کی زیادہ مقدار مردوں کی تولیدی صحت کو متاثر کر سکتی ہے اور بانجھ پن کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے۔
ارہوس یونیورسٹی کی تحقیق، جس میں 1,058 نوجوان مردوں کو شامل کیا گیا، کے مطابق جسمانی چربی بڑھنے سے اسپرم کاؤنٹ اوسطاً 23 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اضافی چربی تولیدی ہارمونز کے توازن کو بھی متاثر کرتی ہے، جس کے نتیجے میں بارآوری کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے۔
تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صحت مند جسمانی وزن برقرار رکھنا نہ صرف مجموعی صحت بلکہ مردانہ تولیدی صحت کے لیے بھی ضروری ہے، جبکہ جسمانی چربی کو قابو میں رکھنا بانجھ پن کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ تحقیق ہیومین ری پروڈکشن جریدے میں شائع ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 17.5 فیصد بالغ افراد کو زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر بانجھ پن کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بانجھ پن کے تقریباً ہر تین میں سے ایک کیس میں مسئلہ مردوں میں پایا جاتا ہے۔