ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ جنگ کسی صورت نہیں ہونی چاہیے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان تنازع کو سنجیدگی سے سفارتی سطح پر حل کیا جانا ضروری ہے۔
وائٹ ہاؤس میں دیوالی کی خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے حال ہی میں ٹیلی فون پر طویل اور تفصیلی گفتگو کی، جس میں تجارت سمیت متعدد اہم علاقائی اور عالمی امور پر بات چیت کی گئی۔ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے مودی پر واضح کیا کہ تنازعات کے بجائے باہمی تجارت اور معاشی تعاون سے مسائل کا حل نکالا جائے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ’’میں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک ممکنہ جنگ کو روکنے میں کردار ادا کیا، کیونکہ دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں اور ان کے درمیان تصادم عالمی امن کے لیے شدید خطرہ بن سکتا تھا‘‘۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران 7 طیارے تباہ کیے گئے تھے، تاہم امریکہ کے بروقت سفارتی کردار نے حالات کو مزید بگڑنے سے بچایا۔
ٹرمپ نے اپنی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب تک 8 ممکنہ جنگیں رکوا چکے ہیں، اور ان میں سے زیادہ تر تنازعات کو تجارتی شراکت داری اور مذاکرات کے ذریعے حل کروایا گیا۔ دیوالی تقریب کے دوران انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ بھارت نے امریکہ کے ساتھ تجارتی تعاون بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور مستقبل میں روس سے مزید تیل نہ خریدنے کے فیصلے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔
امریکی صدر کے اس بیان کو عالمی مبصرین جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیشرفت قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان دونوں ممالک پر سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے، تاکہ خطے میں امن کی بحالی کے لیے واشنگٹن کے کردار کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔