ویب ڈیسک: یوکرین کے صدر وولوڈیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ یوکرین کی نیٹو رکنیت کے بدلے اپنی صدارت چھوڑنے کے لیے تیار ہیں، یہ بیان انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیے گئے سوال کے جواب میں دیا۔
تفصیلات کےمطابق امریکا اور یوکرین کے ممکنہ معدنیات کے معاہدے پر بات کرتے ہوئے، زیلنسکی نے کہا کہ اب تک دی گئی تجاویز ان کی توقعات کے مطابق نہیں ہیں، لیکن مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں اور یوکرین تعاون کے لیے تیار ہے۔
زیلنسکی نے گزشتہ روز امریکی صدر کے دیے گئے بیان ( جس میں ٹرمپ نے انہیں آمر قرار دیا تھا) کا جواب دیتے ہوئے کہا وہ آمر نہیں ہیں،
زیلنسکی نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکی قیادت کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پیوٹن دوبارہ حملہ نہ کرے۔
زیلنسکی نے کہا کہ کل عالمی رہنما یوکرین پہنچیں گے تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے سکیورٹی ضمانتوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ملاقات ایک "نیا موڑ" ثابت ہوگی، یوکرین کو کسی بھی مذاکرات کا حصہ ہونا چاہیے جو جنگ کے خاتمے سے متعلق ہوں، یہ مؤقف وہ پچھلے کئی ہفتوں سے مسلسل دہرا رہے ہیں۔