ویب ڈیسک: افغانستان کے صوبہ قندوز سے تعلق رکھنے والا 13 سالہ لڑکا ایران جانے کے خواب میں اپنی جان داؤ پر لگا بیٹھا، لیکن معجزانہ طور پر بچ بھی گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کی صبح یہ کم عمر لڑکا چپکے سے کابل ایئرپورٹ میں داخل ہوا اور مسافروں کے ایک گروہ کے پیچھے چلتے ہوئے کام ایئر کی دہلی جانے والی پرواز کے پچھلے لینڈنگ گیئر کمپارٹمنٹ میں جا چھپا۔ اس کے پاس صرف ایک چھوٹا سرخ اسپیکر تھا اور وہ سمجھ رہا تھا کہ یہ پرواز ایران کے دارالحکومت تہران کے لیے روانہ ہو رہی ہے۔
طیارہ تقریباً 90 منٹ تک فضا میں 30 سے 40 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتا رہا، جہاں درجہ حرارت منفی 50 ڈگری سیلسیئس تک گر جاتا ہے اور آکسیجن بھی موجود نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں زندہ بچنے کے امکانات نہایت کم ہوتے ہیں، تاہم یہ لڑکا تمام خطرات کے باوجود دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے میں کامیاب رہا۔ ایئرپورٹ عملے نے طیارہ لینڈ کرنے کے بعد ایک سفید لباس میں ملبوس لڑکے کو رن وے کے قریب گھومتے دیکھا اور فوراً سیکیورٹی کو اطلاع دی۔
سینٹرل انڈسٹریل سیکیورٹی فورس (CISF) کے مطابق لڑکا صبح 10 بج کر 20 منٹ پر دہلی پہنچنے والی پرواز کے لینڈنگ گیئر میں چھپا ہوا تھا۔ حکام نے فوری طور پر اسے حراست میں لے کر امیگریشن کے حوالے کیا، جہاں ابتدائی تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ وہ اصل میں ایران جانا چاہتا تھا لیکن غلطی سے دہلی جانے والی پرواز میں سوار ہو گیا۔ شام 4 بجے اسے اسی ایئرلائن کے ذریعے واپس کابل بھیج دیا گیا۔
ہوائی ماہرین کے مطابق لینڈنگ گیئر کمپارٹمنٹ میں سفر کرنا انتہائی خطرناک ہے کیونکہ وہاں نہ تو دباؤ موجود ہوتا ہے اور نہ ہی آکسیجن، اس لیے زیادہ تر افراد سفر کے دوران جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار کے مطابق 1947 سے 2021 کے درمیان دنیا بھر میں 132 افراد نے پہیے کے خانے میں چھپ کر سفر کرنے کی کوشش کی، جن میں زندہ بچنے کی شرح صرف 23 فیصد رہی۔ بھارت میں اس نوعیت کا ایک واقعہ 1996 میں بھی پیش آیا تھا جب دہلی سے لندن جانے والی برٹش ایئرویز کی پرواز میں دو نوجوان چھپ گئے تھے جن میں سے ایک جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔