جنوبی کوریا: سابق صدر پر رشوت کے الزام میں فردِ جرم عائد 

جنوبی کوریا: سابق صدر پر رشوت کے الزام میں فردِ جرم عائد 
کیپشن: جنوبی کوریا کے سابق صدر مون جے اِن پر رشوت کے الزام پر فردِ جرم عائد 

ویب ڈیسک: جنوبی کوریا کے سابق صدر مون جے اِن پر رشوت ستانی کے الزام میں فردِ جرم عائد کردی گئی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک ایئر لائن کمپنی میں اپنے داماد کو نوکری دلوانے کیلیے رشوت دی ہے۔

 بی بی سی کی خبر کے مطابق ایک مقدمے میں استغاثہ نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ   جنوبی کوریا کے سابق صدرمون جے ان  کے داماد سیو کی بطور ایگزیکٹو آفیسر  تقرری دراصل ایک سودے بازی کا نتیجہ تھی، جس کے تحت ایئر لائن کے سی ای او لی سانگ جک  کو ایک ریاستی فنڈ سے چلنے والی ایجنسی کا سربراہ بنایا گیا۔ اس مقدمے میں جنوبی کوریا کے سابق صدر مون جے ان پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

حکام کا مؤقف ہے کہ یہ تعیناتی اقربا پروری اور ممکنہ رشوت کے زمرے میں آتی ہے، جو اس وقت کے حکومتی اصولوں اور شفافیت کے دعووں کے خلاف ہے۔ 
جبکہ استغاثہ کی جانب سے یہ الزام لگایا گیا ہے کہ مون جے ان کے داماد کے پاس ہوا بازی سے متعلق کوئی تجربہ نہیں تھا۔ پھر بھی انہیں کمپنی کے سی ای او  لگا دیا گیا۔
 یاد رہے کہ مون جے ان  نے 2017 سے 2022 تک جنوبی کوریا کی بطور صدر قیادت کی تھی اور انہیں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کی کوششوں کے لیے سب سے زیادہ یاد کیا جاتا ہے۔  وہ جنوبی کوریا کے ان صدور کی ایک طویل فہرست میں شامل ہے جن کا سیاسی کیریئر جیل سے لے کر قتل تک، اسکینڈل کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔

 استغاثہ کا مزید  کہنا ہے کہ مون جے ان  کے علاوہ سابق قانون ساز لی سانگ جِک پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ ان پر رشوت ستانی اور اعتماد میں خیانت کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ 
بجٹ ایئر لائن ایسٹر جیٹ کے بانی لی کو 2018 میں کوریا کی چھوٹی اور درمیانی صنعتوں اور اسٹارٹ اپ ایجنسی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔  اسی دوران مون جے ان کے داماد سیو کو بھی ایسٹر جیٹ کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کیا گیا تھا۔

استغاثہ نے مزید اس حوالے سے تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ سیو نے نے تقریباً 2.17 سو ملین وون(تقریباً 1.5 لاکھ امریکی ڈالر یا 1.13 لاکھ پاؤنڈ)  تنخوا اور رہائشی سہولیات کی مد میں وصول کیے۔  جو کہ استغاثہ کا کہنا ہے کہ دراصل مون جے ان کیلیے رشوت تھی۔

علاوہ ازیں سابق صدر کی بیٹی مون دا ہائے کی رہائش گاہ پر گزشتہ ستمبر میں رشوت ستانی کے الزامات کی تحقیقات کے دوران چھاپہ مارا گیا تھا۔ جبکہ مون پر فرد جرم ان کی انتظامیہ کے عہدیداروں کے خلاف مقدمات کی ایک سیریز کے درمیان سامنے آئی ہے۔ اس ماہ کے شروع میں، مون کے سابق قومی سلامتی کے مشیر اور وزیر دفاع پر مبینہ طور پر کارکنوں کو خفیہ معلومات لیک کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ جنوبی کوریا کے حال ہی میں عہدے سے ہٹائے گئے صدر یون سک یول کو بھی مجرمانہ الزامات کا سامنا ہے۔

Watch Live Public News