ویب ڈیسک: امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ مئی میں ہونے والی ایک میٹنگ کے دوران اٹارنی جنرل پام بانڈی اور ان کے نائب نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مطلع کیا تھا کہ ان کا نام جیفری ایپسٹین کی دستاویزات میں شامل ہے، جو جنسی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا کر چکا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کو آگاہ کیا گیا کہ ایپسٹین کی فائلوں میں کئی دیگر اہم شخصیات کے نام بھی موجود ہیں، تاہم امریکی تحقیقاتی ادارے نے مزید معلومات جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اسے لبرل میڈیا اور ڈیموکریٹس کی جانب سے پھیلائی گئی فیک نیوز کا حصہ کہا ہے۔
یاد رہے کہ سابق مشیر ایلون مسک بھی ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ ایپسٹین کی فہرست کو خفیہ رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ٹرمپ کا نام شامل ہے۔
واضح رہے، جیفری ایپسٹین 2019 میں نیویارک کی ایک جیل میں مردہ پایا گیا تھا، جس کی موت کو سرکاری طور پر خودکشی قرار دیا گیا تھا، مگر اس پر شکوک و شبہات اب تک برقرار ہیں۔
جیفری ایپسٹین کون تھا؟
جیفری ایپسٹین ایک امریکی ارب پتی سرمایہ کار اور فنانسر تھا، جو نیویارک کے اعلیٰ سماجی حلقوں، سیاست دانوں، شاہی خاندانوں اور مشہور شخصیات سے قریبی تعلقات رکھتا تھا۔
کیس کا پس منظر:
2000 کی دہائی کے اوائل سے ایپسٹین پر الزام تھا کہ وہ کم عمر لڑکیوں کو پیسوں، نوکری یا ماڈلنگ کے جھانسے میں پھنسا کر اپنی رہائش گاہوں پر لے جاتا اور جنسی استحصال کرتا تھا۔
2008 میں وہ "سیکس آفینڈر" (جنسی مجرم) کے طور پر رجسٹر ہوا، لیکن اسے محض 13 ماہ قید کی سزا ملی، وہ بھی "ورک ریلیز" کے ساتھ، یعنی دن میں باہر جا سکتا تھا — جسے "سوفٹ ڈیل" کہا گیا اور اس پر بہت تنقید ہوئی۔
2019 میں دوبارہ گرفتاری:
جولائی 2019 میں وفاقی حکام نے دوبارہ گرفتار کیا، اس بار جنسی اسمگلنگ اور درجنوں کم عمر لڑکیوں کے استحصال کے الزامات کے تحت۔
کیس میں نئی گواہیاں، تصاویر، اور ثبوت سامنے آئے۔
اہم الزامات:
کم عمر لڑکیوں کی بھرتی، جنسی استحصال، اور دیگر بااثر افراد کو بھی ان لڑکیوں تک رسائی دینا۔
متاثرہ لڑکیوں کے مطابق انہیں باقاعدہ "ریکرُوٹرز" کے ذریعے ایپسٹین کی املاک (نیویارک، فلوریڈا، ورجن آئی لینڈز) پر لایا جاتا تھا۔
متنازعہ تعلقات:
ایپسٹین کے تعلقات درج ذیل شخصیات سے مشہور ہوئے:
پرنس اینڈریو (برطانوی شاہی خاندان)
بل کلنٹن (سابق امریکی صدر)
ڈونلڈ ٹرمپ
ایلون مسک، بل گیٹس (بعض رپورٹس کے مطابق ملاقاتیں ہوئیں)
موت اور تنازعہ:
10 اگست 2019 کو ایپسٹین نیویارک کی جیل میں مردہ پایا گیا۔
سرکاری طور پر موت کو "خودکشی" قرار دیا گیا، مگر:
جیل کے کیمرے بند تھے
گارڈز سو گئے تھے یا جھوٹی رپورٹیں دے رہے تھے
پوسٹ مارٹم رپورٹ پر بھی ماہرین نے سوالات اٹھائے
اس سب نے "سازشی نظریات" کو جنم دیا کہ شاید اسے خاموش کر دیا گیا کیونکہ وہ بڑے ناموں کے خلاف گواہی دے سکتا تھا۔