ویب ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار ہے، جبکہ تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 100.5 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی مہنگا ہو گیا ہے اور اس کی قیمت 91.65 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔
ادھر مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث دنیا کی اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس راستے سے گزرنے والے ٹینکرز کی تعداد کم ہو کر گزشتہ دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کے روز صرف ایک خام تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرا۔
رپورٹ کے مطابق نیو جائنٹ نامی آئل ٹینکر، جس میں تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی خام تیل لدا ہوا تھا، آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد چین کی ریژاؤ پورٹ کی جانب روانہ ہو گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی یا تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔