ویب ڈیسک: انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس نے نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ میچ سے قبل نائٹ کلب واقعے پر کھل کر معذرت کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ان کی غلطی کے اثرات صرف ان تک محدود نہیں رہے بلکہ پوری ٹیم اور کرکٹ سے وابستہ متعدد افراد اس سے متاثر ہوئے۔
ٹرینٹ برج میں جمعے سے شروع ہونے والے سیریز کے فیصلہ کن ٹیسٹ سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بین اسٹوکس نے کہا کہ بطور کپتان ذمہ داری قبول کرنا ان کا فرض تھا اور اسی لیے انہوں نے سب سے پہلے معافی مانگنے کا فیصلہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے باعث کئی افراد غیر ضروری دباؤ اور مشکلات کا شکار ہوئے، جن میں سابق کپتان جو روٹ بھی شامل ہیں۔ اسٹوکس نے کہا کہ جو روٹ کو ایسی صورتحال میں اضافی ذمہ داریاں سنبھالنا پڑیں جن کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا، حالانکہ وہ پہلے ہی قیادت کا کردار چھوڑ چکے تھے۔
انگلش کپتان نے جو روٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مشکل وقت میں نہ صرف ایک عظیم کرکٹر بلکہ ایک بہترین انسان ہونے کا بھی ثبوت دیا اور ٹیم کا بھرپور ساتھ نبھایا۔
بین اسٹوکس نے نوجوان کھلاڑیوں جورڈن کاکس، سونی بیکر اور جیمز ریو کا بھی خصوصی ذکر کیا، جنہوں نے مشکل حالات میں اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کھلاڑیوں کے لیے ڈیبیو کے یہ لمحات زندگی بھر کی یادگار بننے چاہیے تھے، لیکن ایک غیر متعلقہ واقعے نے ان کی کامیابیوں کی خوشی کو کسی حد تک متاثر کیا۔
35 سالہ آل راؤنڈر نے واضح کیا کہ اب ان کی تمام تر توجہ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز جیتنے پر مرکوز ہے۔ تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز ایک، ایک سے برابر ہے اور ٹرینٹ برج میں ہونے والا آخری مقابلہ دونوں ٹیموں کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
بین اسٹوکس نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ ماضی میں ٹرینٹ برج میں کئی یادگار فتوحات حاصل کر چکا ہے اور موجودہ ٹیم بھی فیصلہ کن معرکے میں مثبت نتائج دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔