ویب ڈیسک: سیشن کورٹ لاہور میں وزیراعظم شہباز شریف کے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے خلاف ہتک عزت کے دعوے کی سماعت میں عمران خان کے وکیل نے ان سے جرح کی۔بعد ازاں عدالت نے مزید کارروائی 2 جون تک ملتوی کر دی۔
تفصیلات کے مطابق سیشن عدالت لاہور میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے دائر کیے گئے 10 ارب روپے کے ہرجانے کے دعوے کی ہفتے کو بھی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران وزیراعظم شہباز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں جرح کے لیے پیش ہوئے۔ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج یلماز غنی کر رہے ہیں۔
ویڈیو لنک پر پیشی کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے جج اور تمام افراد کو ”جنگ جیتنے“ پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’جج صاحب آپ سمیت کمرہ عدالت میں موجود تمام افراد کو فتح مبارک ہو۔
جج نے جواب دیا، ’آپ کو بھی بہت مبارک ہو۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ’یہ بہت خوشی کی بات ہے اور ساری قوم کی فتح ہے۔‘
عمران خان کے وکیل میاں محمد حسین نے وزیراعظم پر جرح کا آغاز کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ اپنے دعوے میں ان اخبارات کو فریق نہیں بنایا اور نہ ہی لیگل نوٹس بھجوایا؟
وزیراعظم نے کہا، ’یہ بات درست نہیں ہے۔‘
وکیل نے سوال کیا، ’کیا یہ درست ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے خود اخبارات کو ایسا کوئی بیان نہیں دیا تھا؟‘ اور مزید پوچھا کہ ’اسی لیے آپ نے اخبارات کو فریق بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی؟۔
جس پر شہباز شریف نے انکار کیا۔
شہباز شریف نے بتایا کہ ’دعویٰ ہذا 7 جولائی 2017 کو دائر ہوا۔یہ درست ہے کہ 28 اپریل کو بانی پی ٹی آئی عمران خان نے ایک جلسہ اسلام آباد میں کیا تھا۔29 اپریل کو نجی اخبار میں اسی تقریر سے متعلق خبر شائع ہوئی۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے سوال کیا، کیا اس کے علاوہ آپ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف کوئی اور دعویٰ دائر کیا ہے؟
شہباز شریف نے جواب دیا، ’کوئی دوسرا دعویٰ دائر نہیں کیا۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے سوال کیا کہ عمران خان کی تقاریر اور بیانات کے محرکات کیا تھے؟
شہباز شریف نے کہا کہ یہ بات آپ انہی سے پوچھیں۔
عدالت نے سوال پر اعتراض کیا کہ یہ تو سوال ہی نہیں بنتا۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے سوال کیا، ’پانامہ کیس کیا تھا؟‘
شہباز شریف کے وکلاء نے اعتراض کیا۔
وکیل نے کہا، اگر دعویٰ میں نہ لکھا ہوتا تو سوال نہ کرتا۔
وکیل نے سوال کیا کہ پاناما کیس کا فیصلہ کیا ہوا تھا؟
شہباز شریف نے کہا کہ پاناما کیس ان کے خلاف نہیں تھا، انہیں فیصلے کا معلوم نہیں۔وہ پاناما کیس میں فریق نہیں تھے، یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے۔
عمران خان کے وکیل نے سوال دہرایا کہ سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور نواز شریف فریق ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ہوں گے، لیکن میں فریق نہیں تھا۔
سماعت کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے ان پر 10ارب روپے کا جھوٹا اور بددیانتی پر مبنی الزام لگایا تھا۔
دوان سماعت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’محمد حسین چوٹیا صاحب بہت پروفیشنل ہیں، یہ بات پھر کہہ رہا ہوں، بہت بڑا بددیانتی کا الزام عائد کیا گیا تھا، 10ارب کا الزام لگایا گیا، یہ سیدھا سادھا کیس ہے۔
شہباز شریف نے کہا، ’پانامہ کیس اخبارات اور ٹی وی پر آیا تھا، اس لیے تحریر کیا۔
وکیل نے الزام لگایا کہ ’پانامہ کیس کے حوالے سے حقائق چھپا رہے ہیں۔
اس پر شہباز شریف نے کہایہ درست نہیں ہے۔ غیر ضروری سوال نہ کیے جائیں۔
وکیل محمد حسین نے جواب دیاآپ کے دعویٰ سے سوال کیے جا رہے ہیں۔
شہباز شریف نے عدالت کو بتایا کہ مجھے ترکی، آذربائیجان، ایران کے دورے پر جانا ہے۔
عدالت نے شہباز شریف سے استفسار کیا، ’میاں صاحب، آئندہ کون سی تاریخ رکھی جائے، بتا دیں؟‘
عدالت نے مزید کارروائی کے لیے سماعت 2 جون تک ملتوی کر دی۔
پس منظر
واضح رہے کہ عمران خان نے اپریل 2017 میں الزام لگایا تھا کہ شہباز شریف نے پاناما لیکس کے معاملے پر چپ رہنے اور موقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے انہیں 10 ارب روپے کی پیشکش کی تھی۔
10 ارب روپے کی پیشکش کے اس الزام پر جولائی 2017 میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرتے ہوئے اُس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا کیس دائر کیا تھا۔
بعد ازاں، جون 2020 میں شہباز شریف نے اپنے وکیل مصطفیٰ رمدے کی وساطت سے عمران خان کے خلاف ہتک عزت کے دعوے کی جلد سماعت کی متفرق درخواست دائر کی تھی۔
درخواست میں شہباز شریف نے موقف اختیار کیا تھا کہ ہتک عزت کا دعویٰ 3 سال سے زیر التوا ہے، عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ دعویٰ کی جلد سماعت کی درخواست منظور کی جائے اور روزانہ کی بنیاد پر درخواست پر سماعت کی جائے۔