(ویب ڈیسک ) برطانوی محکمہ صحت کے حکام نے فلو اور کورونا وائرس کو وبائی امراض کے حوالے سے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے کیونکہ انہوں نے بھیڑ میں برڈ فلو کے پہلے کیس کی تصدیق کی ہے۔
برطانوی حکام نے یہ انکشاف کووڈ لاک ڈاؤن کے پہلے اعلان 23 مارچ 2020 کے پانچ برس بعد کیا ہے۔
متاثرہ بھیڑ جس کا تعلق انگلینڈ کے یارک شائر کاؤنٹی سے ہے اور عالمی سطح پر یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بگ (ایک نقصاندہ مائیکرو آرنگینزم، ایک مخصوص بیکٹیریم) ایک نئے ممالیہ جانداروں کی نئی قسم میں پھیل سکتی ہے۔
برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے مزید تحقیق اور 24 ترجیحی پیتھوجینز کی تیاری کیلئے کہا ہے۔
آرتھو مائیگزو وائرس بشمول فلو اور کورونا وائرس کو زیادہ خطرناک امکانی وبا کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے جبکہ انکے ساتھ پیکورونا وائرس جیسے پولیو اور پیرا مائیکسو وائرس جیسے خسرہ شامل ہیں۔
محکمہ صحت کے حکام نے کورونا وائرس بحران پر تنقید کی کیونکہ اس کے لیے غلط طور پر فلو کی وبا جیسی تیاری کی گئی تھی۔
نئی فہرست میں 16 وائرس فیملیز اور 8 بیکٹیریل فیملیز شامل ہیں جو کہ مجموعی طور پر درجنوں نقصاندہ مائیکرو آرنگینزم کے برابر ہیں۔
برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کی چیف سائنٹفک آفیسر ڈاکٹر ازابیل اولیور نے بتایا ہے کہ ہم نے انکی رینکنگ نہیں کی ہے کیونکہ صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔
دوسری جانب ایک ماہر صحت نے اس فہرست پر تنقید کی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ اس میں تو درجنوں وائرل اور بیکٹیریل انفیکشن شامل ہیں جو کہ ضرورت سے زیادہ محتاط روی ہے۔