ویب ڈیسک: ایران نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف حملوں کی 80ویں لہر کا آغاز کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
ایرانی حملوں میں تل ابیب کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ اور کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ تازہ حملوں میں بنی براک میں 12 اسرائیلی شہری زخمی ہوئے، جبکہ اسرائیلی دفاعی نظام آئرن ڈوم کئی میزائل روکنے میں ناکام رہا۔
ایرانی عسکری تنظیم پاسداران انقلاب کے مطابق حملوں میں صیہونی ریاست کی انٹیلی جنس تنصیبات اور فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ خیبر شکن، عماد اور سجیل میزائلوں کے ساتھ جدید ڈرونز استعمال کیے گئے، جبکہ تل ابیب میں فوجی لاجسٹک اور سپورٹ مراکز بھی ہدف بنے۔
ایرانی حکام کے مطابق حملوں کے بعد اسرائیلی پولیس نے صحافیوں کو بعض مقامات پر کوریج سے روک دیا، جسے پاسداران انقلاب نے ایران کے حملوں کی شدت کا ثبوت قرار دیا۔
دوسری جانب ایران نے کویت، اردن اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق بحرین کے ایک جزیرے میں واقع فوجی اڈے پر میزائل حملے میں ایک غیر ملکی کنٹریکٹر ہلاک جبکہ درجن سے زائد اہلکار زخمی ہوئے، جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
اسی دوران حیفہ میں بھی اہم اہداف پر حملوں کی اطلاعات ہیں، جبکہ کویت ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے سے ایندھن کے ٹینک میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم کویتی حکام کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
تازہ حملوں نے نہ صرف خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر تشویش میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔