ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو 15 نکاتی جنگ بندی منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں بیلسٹک میزائل اور نیوکلیئر پروگرامز پر پابندیاں، خلیج فارس کی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کی حفاظت اور دیگر متعدد اہم شرائط شامل ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کے تحت ایران کو اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے حوالے کرنا ہوگا، نطنز، اصفہان اور فروڈو کے بڑے نیوکلیئر مراکز تک مکمل رسائی دینی ہوگی، اور علاقائی پراکسی سرگرمیوں اور حلیف عسکری گروپوں کی حمایت بند کرنی ہوگی۔
امریکا کی جانب سے ایران کے بدلے میں پابندیوں کے خاتمے، شہری نیوکلیئر پروگرام کی حمایت اور ’سنیپ بیک‘ میکانزم کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا، جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کلیدی رابطہ کیا۔
دوسری جانب ایران نے اس منصوبے پر سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ٹرمپ خود سے مذاکرات کر رہے ہیں، جبکہ میجر جنرل علی عبد اللہ علی آبادی نے خبردار کیا کہ جنگ مکمل فتح تک جاری رہے گی۔
ایران کی پانچ اہم شرائط میں فوری جنگ بندی، امریکا کی مستقبل کی عسکری مداخلت نہ ہونے کی ضمانت، مالی معاوضہ، آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر کوئی مذاکرات یا پابندیاں نہ ہونا شامل ہیں۔