ویب ڈیسک: وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کا ڈیرہ غازیخان میں الیکٹرو بس پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب، بڑے اعلان کردیے۔، وزیر اعلی مریم نواز شریف کا ڈیرہ غازیخان میں بھی میٹرو بس سروس لانے کا اعلان ، ساوتھ پنجاب میں ہر ماہ سیکرٹریٹ لگانے کا اعلان ، راجن پو ر، لیہ، مظفرگڑھ، تونسہ سمیت ہر ضلع میں الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان ۔
تفصیلات کےمطابق وزیر اعلی مریم نواز شریف نےسرائیکی زبان سے تقریر کا آغاز کیا، مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ جہاں تخت لاہو رہے وہاں تخت بہاولپور، رحیم یار خان، ملتان اور تخت ڈیرہ غا زیخان ہے،جنوبی پنجاب والو ں نے عزت او رپیار سے چادر اوڑھائی، ہمیشہ یاد رکھوں گی.
الیکٹرو بس کیلئے ڈی جی خان والوں کی خوشی دیکھ کر حوصلہ بڑھ رہا ہے, ان بسوں میں وائی فائی فری ہے، خواتین کے لئے فری ہیں، طلبہ کے لئے بھی فری ہیں، وہ افراد جن کی عمر 60 سال سے اوپر ہے ان کے لئے بھی فری ہیں، ان میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں, الیکٹرو بس لاہور، پنڈی یا فیصل آباد نہیں بلکہ میانوالی، وزیر آباد اور ڈی جی خان میں پہلے لانچ کی ہے، الیکٹرو بس عوام کیلئے تحفہ ہے، سپیشل افراد کو عزت سے بس میں سوار کرانے والا عملہ قابل تحسین ہے، جو عوام کا خیال نہ رکھے، اسے حکمرانی کا کوئی حق نہیں۔
مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ دوسرے شہروں کو ملنے والی الیکٹرو بس اور دیگر پراجیکٹ سب کو ملیں گے، تفریق نہیں ہو گی، الیکٹرو بس جیسے پراجیکٹ عوام کی امانت ہیں ان کی حفاظت عوام کے ساتھ ساتھ سب کی ذمہ داری ہے، جیسے اپنے گھر اور سواری کو صاف رکھتے ہیں ایسے ہی الیکٹرو بس کو بھی صاف اور حفاظت سے رکھیں، الیکٹروبس کا خیال رکھنا عوام کی ذمہ داری ہے،نقصان پہنچاتے یا گندگی ڈالتا دیکھیں تو روکیں۔
الیکٹروبس جیسے پراجیکٹ کو نقصان پہنچانا، عوام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے، میانوالی میں پتھر مار کر الیکٹرو بس کا شیشہ توڑنے والے کو پکڑ لیا ہے، نشان عبرت بنائیں گے،بس کا شیشہ توڑنے سے کسی مسافر کو بھی نقصان پہنچ سکتا تھا ۔
پنجاب کے عوام کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دوں گی, مریم نواز شریف پنجاب کے عوام کی طرف اٹھنے والی انگلی توڑ دے گی, پنجاب میں دوسرے صوبوں سے اڑھائی کروڑ افراد روزگار کیلئے مقیم ہیں, پنجاب کے ہسپتال دوسرے صوبوں کے عوام کیلئے کھلے ہیں, سندھ میں آفت آئے تو پنجاب ساتھ کھڑا ہو گا, سیلاب کے معاملے میں سیاست کی جا رہی ہے
میرے لیے ساوتھ، سینٹرل اور اپر پنجاب میں کوئی فرق نہیں، سب برابر ہیں اور سب کی وزیر اعلی ہوں, سنیٹرل پنجاب میرے لیے ماہ نور کی طرح، اپر پنجاب مہرالنسا کی طرح اور جنوبی پنجاب میرے لیے جنید بیٹے کی طرح ہے, ساوتھ او رسینٹرل پنجاب کی بات اقتدار کی ہوس رکھنے والے لوگ کرتے ہیں, ساوتھ پنجاب میں سارے پراجیکٹ پاکستان مسلم لیگ ن لے کر آئی, موٹر وے، ایکسپریس وے ساوتھ پنجاب میں لائے .
مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ساوتھ پنجاب میں بلکہ ڈی جی خان میں پہلی الیکٹرک بس نوازشریف کی بیٹی لے کر آئی، سی ایم دفتر میں تصویر فریم میں لگا کر رکھنے کیلئے نہیں ہوتا عوام کے ساتھ ہونا چاہیئے، جو ساوتھ پنجاب کی بات کرتے ہیں انہوں نے اپنے دور میں دھیلے کا کام نہیں کیا، ساوتھ پنجاب کو ان لوگو ں کے دور میں کچھ نہیں ملا، منصوبے بڑے شہروں میں آ کر بڑے شہروں میں ختم ہوجاتے تھے۔
مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ اربوں خرچ ہو جائیں، ڈیرہ غازیخان کو نقصان نہیں ہونے دیں گے، وزیر اعلی، کابینہ او رپوری ٹیم جاگ رہی ہے، عوام کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے، غذائی قلت کا شکار بچوں کیلئے پہلا پراجیکٹ جنوبی پنجاب کے اضلاع میں شروع کیا،میرے وزیرسینٹرل پنجاب نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں بیٹھے رہے، ساوتھ پنجاب کی بار بار بات کر کے لکیر کھینچنے کی کوشش کی جاتی ہے، میرے ذہن میں ا یسا کوئی فرق نہیں، پہلے ڈی جی خان کے لوگ خوابوں پر گزارا کرتے تھے اب تعبیر ملتی ہے۔
مجھے فخر ہے بارڈر ملٹری پولیس میں پنجاب کی بیٹیاں یونیفارم پہن کر شریک ہیں،تین دریاؤں میں اونچے درجے کا سیلاب آئے، تین ماہ مسلسل بارشیں ہوتی رہیں ہم نے تیاری کر رکھی تھی، میرے وزیر او رپوری ٹیم سیلاب کے دوران راشن تقسیم کرتی رہی اور خیمے لگواتی رہی، جب تک لوگوں کو کھانا اور ٹینٹ نہیں ملے،مریم اورنگزیب اور دیگر وزیر چین سے نہیں بیٹھے۔
نواز شریف کی بیٹی ہوں، امداد کیلئے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گی،کب تک پاکستان دوسر وں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا رہے گا، این ایف سی ایوارڈ سے اربوں کھربوں ہر صوبے کو مل رہے ہیں، وہ عوام پر خرچ نہیں کرنے تو کہاں کرنے ہیں، عوام کا پیسہ عوام پر خرچ نہیں کرنا تو کہاں خرچ کریں گے، شہباز شریف صاحب سے ایک روپیہ مانگا نہ لیا ہے، اربوں روپے سیلاب زدگان کے انخلا، ریسکیو اور ریلیف پر خر چ کر دیئے۔
سیلا ب ز دگان کو بی آئی ایس پی سے دس ہزار نہیں بلکہ دس لاکھ روپے تک دینا چاہتے ہیں، جس کا گھر گرا، مویشی مر گئے، فصلو ں کا نقصان ہوا سب کے نقصان پورے کرنا چاہتی ہوں، جس کا لاکھوں کا نقصان ہوا وہ بی آئی ایس پی سے دس پندرہ ہزار لے کر کیا کرے گا، اپنی چھت اپنا گھر سمیت دیگر بڑے پراجیکٹ اپنے ہی وسائل سے چلا رہے ہیں، پنجاب میں مزدور اور ورکرز کے دو ملین گھرانوں کو راشن مل رہا ہے، ساڑھے تین ارب ر وپے رودکوہیوں کے سدباب کیلئے خرچ کیے، اللہ کے فضل سے اب نقصان نہ ہونے کے برابر ہے۔