ویب ڈیسک: بھارت نے پاکستان کو بغیر اطلاع دیے دریائے جہلم میں پانی چھوڑ دیا ہے،جس سے دریائے جہلم میں شدید طغیانی سے مقامی افراد خوف و ہراس کا شکار ہوگئے جبکہ مظفرآباد میں آبی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر سے آزاد کشمیر کے علاقے چکوٹھی میں داخل ہونے والے دریائے جہلم میں اچانک شدید طغیانی آگئی اور دریا میں پانی کی سطح اچانک بلند ہوگئی، جس سے مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، دریا کے کنارے بستیوں میں مساجد میں اعلانات شروع کردیے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دریائے جہلم میں اچانک طغیانی کی وجہ یہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کو اطلاع دیے بغیر دریا میں پانی چھوڑ دیا ہے۔
بھارت کی اس حرکت نے عالمی قوانین اور دریائی معاہدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے، بغیر اطلاع پانی چھوڑ کر بھارت نے پاکستان کے شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالا اور اپنی بدنیتی کو ایک بار پھر بےنقاب کر دیا، یہ اقدام نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ بین الاقوامی اصولوں کی بھی سنگین پامالی ہے۔
دوسری جانب پاکستانی عوام ایک بار پھر بھارتی آبی جارحیت کے خلاف متحد ہو گئے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ عالمی برادری بھارت کی اس خطرناک روش کا نوٹس لے۔
عوام کا کہنا ہے کہ بھارت جس طرح لائن آف کنٹرول پر گولہ باری کرتا ہے ویسے ہی اب پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے جو ایک ناقابل قبول اور مجرمانہ طرز عمل ہے۔
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی وادی پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد بھارت نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے سمیت دیگر کئی اعلانات کیے تھے۔
یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی وادی پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد پاکستان پر حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے بھارت نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
سندھ طاس معاہدہ بھارت اور پاکستان کے درمیان واحد معاہدہ ہے جو 3 بڑی جنگوں کے باوجود قائم رہا ہے، اس معاہدے کو دنیا بھر میں سرحد پار آبی تنازع کے کامیاب حل کی روشن مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔