پنجاب کے کسانوں کا احتجاج: حالیہ پیش رفت اور اہم مطالبات

پنجاب کے کسانوں کا احتجاج: حالیہ پیش رفت اور اہم مطالبات
کیپشن: پنجاب کے کسانوں کا احتجاج: حالیہ پیش رفت اور اہم مطالبات

ویب ڈیسک: بھارتی پنجاب کے کسان 'مشترکہ کسان مورچہ' اور متعدد ملحقہ تنظیموں کے بینر تلے سراپا احتجاج ہیں۔ حالیہ ریلیوں اور دھرنوں میں پیداواری لاگت میں اضافہ، کھاد کی قلت، فصلوں کی امدادی قیمت (MSP)، قرضوں کی معافی، فصلوں کے انشورنس اور معمر کسانوں کے لیے پنشن جیسے سنگین خدشات کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔
 اہم نکات  
بھارتی پنجاب کے تمام اضلاع بشمول امرتسر، بھٹنڈہ، فیروز پور اور گورداسپور میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ہوشیار پور، جالندھر، کپور تھلہ، لدھیانہ، موگا، پٹیالہ اور روپ نگر میں کسانوں نے دھرنے اور ریلیاں نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سنگرور، نواں شہر، پٹھانکوٹ اور ترن تارن میں بھی کسانوں نے احتجاج اور پورے پنجاب میں پہیہ جام کرنے کی دھمکی دی ہے۔ مشترکہ کسان مورچہ کے بینر تلے پورے بھارت میں کسان برہم ہیں اور امریکی تجارتی وفد کو ملک سے نکل جانے کا الٹی میٹم دیا گیا ہے۔     کسانوں کا دوٹوک مؤقف ہے کہ مقامی زراعت کو برباد کرنے والا بھارت امریکہ زراعتی تجارتی معاہدہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
مودی حکومت اقلیتوں کو نشانہ بنانے اور سماجی تفریق پیدا کرنے میں مصروف ہے جبکہ بھارت کا کسان معاشی بقا کے لیے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہے۔   کسانوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تحریک نے مودی سرکار اور زراعتی شعبے کے درمیان گہرے اور ناقابلِ عبور خلیج کو واضح کر دیا ہے۔ متحرک اور بیدار کسانوں پر زبردستی تجارتی شرائط تھوپنے سے امریکہ کو مستحکم مارکیٹ نہیں بلکہ صرف شدید عوامی انتشار ملے گا۔
مودی سرکار نے امریکی جیو پولیٹیکل خوشنودی کے لیے 25 کروڑ بھارتی کسانوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا۔ کسانوں نے معاہدہ ختم ہونے تک کسی بھی قسم کا تعاون نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Watch Live Public News