ویب ڈیسک: انسداد دہشتگردی عدالت نے10 سال پرانے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس ٹرائل کی سماعت 2 نومبر تک ملتوی کر دی۔
تفصیلات کے مطابق 10 سال پرانے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس ٹرائل کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے کی۔پراسکیوٹر عبد الجبار ڈوگر عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پولیس کی ایف آئی آر میں شہادتیں مکمل ہو گئیں ہیں ایک سرکاری گواہ باقی ہے،آئندہ سماعت پر پاکستان عوامی تحریک کی ایف آئی آر میں گواہان پیش ہوں۔
پراسکیوٹر نے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک اپنے گواہان پیش کرے تو ہم بھی تعاؤن کریں گے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان عوامی تحریک پولیس افسران کیخلاف جو شہادت ہیں پیش کریں،دونوں ایف آئی آرز پر شہادتین مکمل ہونے پر فیصلہ ایک ساتھ سنایا جائے گا۔
پاکستان عوامی تحریک کے وکیل نعیم الدین چوہدری عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ اب تک پولیس کی درج کردہ ایف آئی آر میں 107 گواہان کی شہادت قلمبند ہو چکی ہے،اب تک سانحہ ماڈل ٹاؤن میں پولیس کی جانب سے درج مقدمہ کا ٹرائل ہو رہا تھا، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے دونوں فریقین کی الگ الگ ایف آئی آرز درج ہوئیں تھی،پولیس کی مدعیت میں 510/14 ایف آئی آر درج ہوئی، پاکستان عوامی تحریک کے جواد حامد کی مدعیت میں ایف آئی آر نمبر 696/14 درج ہوئی۔ پاکستان عوامی تحریک نے سانحہ کیخلاف استغاثہ بھی دائر کر رکھا ہے۔
سرکاری گواہان نے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک کی فائرنگ سے 7 شہری قتل ہوئے،کارکنان کے پتھراؤ اور فائرنگ سے 31 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
بعد ازاں عدالت نے 10 سال پرانے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی سماعت 2 نومبر تک ملتوی کر دی۔