ویب ڈیسک: امریکی ریاست واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے واقعے میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایک شخص نے اچانک گشت پر مامور اہلکاروں پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں دونوں اہلکاروں کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
پولیس نے فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کو گرفتار کرلیا ہے، جس کی شناخت 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے نام سے کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق مشتبہ شخص 2021 میں امریکا کے لیے آیا تھا۔
National Guard shot near the White House at a little before 2:15.
— Mari Otsu (@marisotsu) November 26, 2025
I was in an Uber to work, with my cameraman, and heard multiple shots fired as we passed Farragut West.
A member of the National Guard fell while others rushed onto the scene.
Area still on lockdown and… pic.twitter.com/A4wKORrEZg
فائرنگ کے بعد وائٹ ہاؤس کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا جبکہ اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔ شہریوں کو آئی اسٹریٹ کے قریب جانے سے گریز کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔
امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکرٹری نے کہا ہے کہ واقعے کی تفصیلات جمع کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ جاری ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فائرنگ کے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ بائیڈن دور میں افغانستان سے امریکا آنے والے ہر فرد کی دوبارہ جانچ پڑتال کا حکم دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں حملہ آور کو ’’جانور‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل گارڈ پر حملہ کرنے والے کو سخت انجام کا سامنا کرنا پڑے گا۔
زخمی دونوں اہلکاروں کا تعلق ویسٹ ورجینیا سے ہے۔ ویسٹ ورجینیا کے گورنر نے کہا ہے کہ وہ وفاقی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔
فائرنگ کے واقعے کے بعد سکیورٹی خدشات کے باعث واشنگٹن کے رونالڈ ریگن ایئرپورٹ پر پروازوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا، تاہم کچھ دیر بعد معمول کی پروازیں بحال کر دی گئیں۔