پاکستان میں سگریٹ کی ا سمگلنگ، حکومت کو ٹیکس کی مد میں کتنا نقصان؟اہم حقائق سامنے آگئے

پاکستان میں سگریٹ کی ا سمگلنگ، حکومت کو ٹیکس کی مد میں کتنا نقصان؟اہم حقائق سامنے آگئے

ویب ڈیسک: آل پاکستان پان سگریٹ ایسوسی ایشن کے صدر وسیم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں رجسٹرڈ کمپنیاں تقریباً 36 بلین سگریٹ بنارہی ہیں ویسے 81 بلین کی ضرورت ہے، باقی سمگل ہوکر آتا ہے اس میں نان کسٹم پیڈ اور کونٹر فیڈ سگریٹ شامل ہے، 81 بلین میں 50 فیصد لیگل اور 50 ’ان لیگل‘ شامل ہے، ان میں تین کیٹگری شامل ہیں ایک جو یہاں دو نمبر بن رہے ہیں، دوسرے وہ جس پر ٹیکسز  نہیں دیے جاتے اور تیسرا وہ ہیں جو یہاں پر سمگل ہوکر آتے ہیں۔

 آل پاکستان پان سگریٹ ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا تھا کہ کونٹرفیڈ سگریٹ کسی بھی کمپنی کو کاپی کرسکتے ہیں، لیکن زیادہ تر امپورٹ سگریٹ جو سمگل ہو کر پاکستان میں آتا ہے ان کی زیادہ تر کاپی ہوتی ہے۔ جن پر سیلز ٹیکس لگایا جاتا وہ ہمارے فاٹا کے ایریاز میں بنتے ہیں کئی حکومتی حلقوں میں بیٹھنے والے بھی اُن میں شمار ہوتے ہیں جو ان کو بنوا رہے ہوتے ہیں اور پاکستان میں فروخت کرتے ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ اس پر بہت کریک ڈاون کیا گیا۔

 آل پاکستان پان سگریٹ ایسوسی ایشن کے صدر وسیم کا کہنا تھا کہ غیرملکی سگریٹ پر ڈیوٹی ٹیکسز بڑھا دیے گئے ہیں اس لئے لیگل طریقے امپورٹ نہیں ہوسکتا۔

حل بتاتے ہوئے صدر آل پاکستان پان سگریٹ ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سگریٹ سمگل ہوکر نہ آئے، کونٹرفیڈ سگریٹ نہ بنے، سیلز ٹیکس سگریٹ موجود نہ ہوں پھر پاکستان  میں جو لوکل سگریٹ بنتا ہے اُس کی جتنی مرضی قیمت بڑھا لیں۔ سمگل ہوکر پاکستان آنے سگریٹ پر کارروائی کی جائے اگر وہ امپورٹ ہو کر بھی آرہے ہیں تو اس ریکارڈ بھی حکومت کے پاس ہو۔ 

2017 میں حکومت سے درخواست کی تھی سگریٹ پر ایکسائز ڈیوٹی کم کریں۔

Watch Live Public News