(ویب ڈیسک ) اقوام متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اپنی یورینیم افزودگی کی سرگرمیاں چند ماہ میں دوبارہ شروع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق رافیل گروسی نے بتایا کہ اگرچہ گزشتہ ہفتے امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایران کی تین اہم ایٹمی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا، تاہم یہ تنصیبات مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ "واضح الفاظ میں کہوں تو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ سب کچھ مٹ گیا ہے اور وہاں کچھ باقی نہیں بچا۔"
رافیل گروسی نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ ایران آئندہ مہینوں میں اپنی جوہری سرگرمیوں کو دوبارہ بحال کر سکتا ہے۔
گروسی کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات "مکمل طور پر تباہ" کر دی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ رواں ہفتے کے شروع میں پینٹاگون کے ایک لیک ہونے والے ابتدائی جائزے میں پایا گیا کہ امریکی حملوں نے ایرانی ایٹمی پروگرام کو شاید صرف چند ماہ پیچھے دھکیلا ہے۔
اس رپورٹ پر امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کی جوہری تنصیبات ’ مکمل طور پر تباہ’ ہو چکی ہیں ۔انہوں نے میڈیا پر ’ تاریخ کے سب سے کامیاب فوجی حملوں میں سے ایک کو مسخ کرنے کی کوشش’ کا الزام بھی لگایا۔