ویب ڈیسک: امریکی محکمہ خارجہ نے پیر کو صدر جو بائیڈن کو ارکان کانگریس کا پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی جیل میں حفاظت سے متعلق خط موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ خط کا ’مناسب وقت پر جواب دیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے امریکی کانگریس کے 60 سے زائد ارکان کا صدر بائیڈن کو لکھے گئے خط، جس میں ان پر زور دیا گیا کہ وہ پاکستانی حکومت سے عمران خان کی جیل میں حفاظت کے لیے کچھ ضمانتیں حاصل کریں، سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ خط موصول ہو گیا ہے، تاہم اس کا جواب مناسب وقت پر دیا جائے گا۔
امریکا کی نائب معاون وزیر برائے جمہوریت اور انسانی حقوق مونیکا جیکبسن نے حال ہی میں اسلام آباد میں پاکستان کے وفاقی انسانی حقوق کے سیکریٹری اللہ ڈینو خواجہ سے ملاقات کی ہے، جس میں دونوں ملکوں کی شراکت داری میں انسانی حقوق، سول سوسائٹی اور جمہوری سالمیت کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مبینہ طور پر اس ملاقات کے فوراً بعد عمران خان کی بہنوں اور اہلیہ کو حراست سے رہا کر دیا گیا تھا، جسے عمران خان کے کچھ حامیوں نے امریکی سفارتی دباؤ سے منسوب کیا۔
تاہم جب میتھیو ملر سے پوچھا گیا کہ کیا امریکی انتظامیہ نے پاکستان میں سیاسی قیدیوں کی رہائی میں کوئی کردار ادا کیا ہے؟ تو انہوں نے اس پیش رفت میں براہ راست امریکہ کے ملوث ہونے کی تصدیق کرنے سے گریز کیا اور صرف اس بات کا اعادہ کیا کہ بات چیت میں انسانی حقوق اور جمہوری حمایت کو اجاگر کیا گیا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل امریکی ایوان نمائندگان کے 60 سے زائد اراکین نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا مطالبہ کرنے کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کو خط لکھا تھا۔
اراکین پارلیمان نے اپنے خط میں جو بائیڈن سے سابق وزیراعظم سمیت پاکستانی جیلوں سے سیاسی قیدیوں کی رہائی کی کوششوں کے ساتھ پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو مرکز بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔
اراکین کی جانب سے لکھے گئے خط میں امریکی سفارتخانے کے اہلکاروں سے جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملنے کی بھی اپیل کی گئی تھی۔
گزشتہ مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 20 سے زائد برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے بھی اپنی حکومت کو خط لکھا تھا، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ حکومت اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے پاکستانی حکومت سے بات چیت کرے۔
لیورپول ریور سائیڈ کے رکن پارلیمنٹ کم جانسن نے عمران خان کے مشیر برائے بین الاقوامی امور ذلفی بخاری کی درخواست پر برطانوی سیکرٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی کو خط لکھا، جس میں انہوں نے عمران خان کی اڈیالہ جیل سے رہائی کی درخواست کی۔
اس خط پر ہاؤس آف کامنز اور ہاؤس آف لارڈز کے اراکین کے دستخط موجود ہیں جبکہ خط میں مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین شامل ہیں جو عمران خان کی قید کی قانونی حیثیت پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے عمران خان کی قید کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور برطانوی حکومت سے ان کی رہائی کے لیے اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔
خط میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے اصولوں کی حمایت کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس میں مختلف اراکین کے دستخط موجود ہیں۔