ویب ڈیسک:امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے وائٹ ہاوس میں میڈیا سے گفتگو، کہا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امن معاہدے کی مکمل حمایت کی، شہباز شریف نے میرے 20 نکاتی امن معاہدے کا خیرمقدم بھی کیا۔
امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کا کہنا تھا کہ امن منصوبے کے لئے مشرق وسطیٰ کے ممالک سے مکمل حمایت حاصل ہے، ایران سے متعلق بھی نیتن یاہو کے ساتھ معاہدہ کیا گیا، مشرق وسطیٰ میں امن کے لئے ایک عظیم اور تاریخی دن ہے، نیتن یاہو کے ساتھ ابراہم معاہدے کو وسعت دینے سے متعلق معاہدہ کیا۔
غزہ جنگ کا خاتمہ مشرق وسطیٰ کے امن کے لئے وژن کا ایک چھوٹا حصہ ہے، غزہ امن معاہدے پر انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں، امن معاہدہ تسلیم کرنے پر اسرائیل وزیراعظم کا شکر گزار ہوں۔
امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد بہترین انسان ہیں، امیر قطر غیر معمولی شخصیت کے مالک ہیں، حماس سے عرب و مسلم ممالک بات کریں گے، حماس نے امن معاہدہ قبول نہ کیا تو نیتن یاہو کی مرضی جو چاہیے کریں۔
انہوں نے کہاکہ ملاقات میں نیتن یاہو نے فلسطینی ریاست کی مخالفت کی ہے، ہم غزہ میں موجود یرغمالیوں میں سے 32 افراد کی لاشیں اور 22 افراد کی زندہ واپسی چاہتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ ہم غزہ میں عبوری انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کریں گے، میری سربراہی میں امن کونسل غزہ کی عبوری انتظامیہ کی تشکیل کی ذمہ دار ہوگی۔
امریکی صدر نے کہاکہ غزہ اتھارٹی کا صدر میں خود ہوں گا، جبکہ سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اس کے رکن ہوں گے۔ نئی حکومت فلسطینیوں اور دنیا بھر کے ماہرین پر مشتمل ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ میں گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی خود مختاری کو تسلیم کرتا ہوں، مسلم ممالک نے غزہ کو غیر فوجی علاقہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ کچھ ممالک نے ناسمجھی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلیا ہے، بہت سے فلسطینی سکون سے زندگی جینا چاہتے ہیں، حماس نے اگر اس معاہدے کو قبول کرلیا تو یرغمالیوں کی رہائی میں 72 گھنٹوں سے زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے۔