بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل رکھنے کا اقدام بین الاقوامی قانون کے منافی ہے: احمر بلال صوفی

بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل رکھنے کا اقدام بین الاقوامی قانون کے منافی ہے: احمر بلال صوفی
کیپشن: بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل رکھنے کا اقدام بین الاقوامی قانون کے منافی ہے: احمر بلال صوفی

ویب ڈیسک: ماہر بین الاقوامی قانون احمر بلال صوفی نے کہا ہے کہ پانی بنیادی انسانی ضرورت ہے، اس لیے پانی سے متعلق معاہدوں کی خلاف ورزی نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ انسانی حقوق کے بھی منافی ہے۔

اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو غیر مؤثر بنانے یا معطل رکھنے کی کوشش بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی ہے۔

احمر بلال صوفی کا کہنا تھا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو دیگر سیاسی معاملات سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ بین الاقوامی معاہدوں کو اس انداز سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان یہ معاملہ اقوام متحدہ میں بھی اٹھا چکا ہے، کیونکہ یہ اقدام سندھ طاس معاہدے اور اقوام متحدہ کے منشور دونوں کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کا حل بین الاقوامی قانون اور سفارتی ذرائع سے نکالا جانا چاہیے، جبکہ دونوں ممالک کے قانونی ماہرین کے درمیان مکالمہ بھی مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

احمر بلال صوفی نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین اور معاہداتی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے اور اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی اور سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

Watch Live Public News