حماس نے امریکی جنگ بندی کی تجویزمسترد کردی

حماس نے امریکی جنگ بندی کی تجویزمسترد کردی
کیپشن: حماس نے امریکی جنگ بندی کی تجویزمسترد کردی

ویب ڈیسک: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کی منظوری سے پیش کیے گئے امریکی جنگ بندی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مجوزہ معاہدہ ان کے بنیادی مطالبات پورے نہیں کرتا، جن میں غزہ پر جنگ کا مکمل خاتمہ سرِفہرست ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کے نمائندہ خصوصی، اسٹیو وٹ کوف کی جانب سے جنگ بندی کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا، جسے اسرائیلی حکومت نے منظور کر لیا ہے۔ اب اس منصوبے کے حوالے سے حماس کی منظوری کا انتظار کیا جا رہا تھا، جو اب واضح طور پر سامنے آ گئی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس معاہدے کے تحت حماس 10 زندہ یرغمالیوں کو رہا کرے گی، جبکہ 18 افراد کی لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے کی جائیں گی۔ بدلے میں اسرائیل اپنی جیلوں میں قید فلسطینیوں کو رہا کرے گا اور 60 دن کی جنگ بندی پر اتفاق کیا جائے گا۔

تاہم حماس کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں جنگ بندی کا عارضی پہلو موجود ہے، جبکہ تنظیم مکمل اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرتی رہی ہے، جو کہ اس معاہدے میں شامل نہیں ہے۔

ترجمان نے کہا کہ"یہ منصوبہ ہمارے بنیادی مطالبات کو نظر انداز کرتا ہے، اس لیے ہم اسے قبول نہیں کر سکتے۔"

ادھر اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں 6 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ ایک امدادی ادارے کے مطابق 5 لاکھ فلسطینی شہری بھوک کا شکار ہیں۔

حالات کی سنگینی کے پیشِ نظر عالمی برادری کی نظریں اب خطے میں کسی ممکنہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

Watch Live Public News