ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کا اہم توانائی مرکز اور تیل کی تنصیبات رکھنے والا خارگ جزیرہ مکمل طور پر تباہ کیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ویڈیو شیئر کی، جس میں ایران میں امریکی فوج کی بمباری کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔
اپنی مختصر پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے توانائی کے مرکز خارگ جزیرے کو ’مکمل طور پر تباہ کیا جا رہا ہے‘۔
تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ کی پوسٹ کے وقت اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق کے لیے کوئی دوسرا ثبوت دستیاب نہیں تھا، جبکہ ایرانی میڈیا کی جانب سے بھی فوری طور پر اس بیان پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
ٹرمپ کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں شدید دھماکوں کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ بعد ازاں امریکی فوج کی جانب سے خارگ جزیرے پر بمباری کی تصدیق بھی کی گئی۔
خارگ جزیرہ ایران کی تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع ہونے سے قبل ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل کی برآمدات اسی جزیرے کے ذریعے نمٹائی جاتی تھیں۔ حالیہ حملوں سے ایران کی توانائی کی تجارت کو شدید نقصان پہنچنے اور ملکی معیشت پر مزید دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب امریکی فورسز نے ایرانی جزیرے لارک پر بھی بمباری کی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق حملے میں راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے جواب میں ایران کے پاسداران انقلاب نے اردن میں موجود دو امریکی فوجی اڈوں پر حملہ کیا۔