ویب ڈیسک: ایران کے خلاف جنگ کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اندرونِ ملک شدید دباؤ کا سامنا ہے، جب کہ ان کی بھتیجی میری ایل ٹرمپ بھی کھل کر مخالفت میں سامنے آ گئی ہیں۔
ہفتے کو "نو کنگز" احتجاج کے دوران ملک بھر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں فوجی کارروائی کے ساتھ مہنگائی کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔ اسے حالیہ امریکی تاریخ کے بڑے مظاہروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
Donald is going to get regime change after all--but in America, not Iran.
— Mary L Trump (@MaryLTrump) March 29, 2026
No Kings.
میری ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر حکومتی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ کے جواز بار بار بدلے جا رہے ہیں اور صدر کو ایرانی عوام سے کوئی حقیقی دلچسپی نہیں۔
انہوں نے جنگی حکمتِ عملی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی فوری خطرے کے بغیر جنگ شروع کرنا نہ صرف غیر منطقی بلکہ امریکی مفاد کے بھی خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بمباری سے ایرانی عوام کو آزادی نہیں مل سکتی اور اس حوالے سے کوئی واضح منصوبہ بھی موجود نہیں۔
دوسری جانب شدید عوامی ردعمل کے باوجود صدر ٹرمپ اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور انہوں نے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں رجیم چینج ہو چکا ہے۔