کینیڈا، میکسیکو اور چین سے درآمدات پر ٹیرف لگا دیا، یورپی یونین پر بھی لگائینگے، ٹرمپ

 کینیڈا، میکسیکو اور چین سے درآمدات پر ٹیرف لگا دیا، یورپی یونین پر بھی لگائینگے، ٹرمپ
کیپشن: ٹرمپ کا 18فروری سے تیل اور گیس پر ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

ویب ڈیسک:  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل اور گیس پر18فروری سے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا۔وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وعدوں کے مطابق کینیڈا اور میکسیکو سے امریکا بھیجی جانے والی اشیاء پر 25 فیصد اور چین سے آنے والی چیزوں پر 10 فیصد محصولات آج سے نافذ ہو جائیں گے۔

صد رٹرمپ نے جمعے کو صحافیوں کو بتایا کہ کینیڈا، میکسیکو اور چین ٹیرف کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔صدر نے مزید کہا کہ یورپی یونین پر محصولات کے لیے کچھ "بہت اہم" منصوبہ بنایا گیا ہے۔ٹرمپ نے کمپیوٹر چپس پر محصولات کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ 18 فروری تک تیل اور گیس پر ٹیرف کا امکان ہے۔رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ان کے منصوبے مختصر مدت کے لیے ممکنہ رکاوٹ کا باعث بن سکتے ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق لیکن ری پبلکن صدر نے اوول آفس میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ فنانشل مارکیٹس یعنی مالیاتی منڈیوں کے ردِ عمل کے بارے میں فکر مند نہیں ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ ن کا کہنا تھا کہ "کل (ہفتے) سے، یہ ٹیرف لاگو ہوں گے۔" "یہ وعدے ہیں جو صدر (ڈونلڈ ٹرمپ ) کے ہیں اور وعدے ہیں جو انہوں نے پورے کیے ہیں۔"

 خبررساں ایجنسی  کے مطابق ، اس سے قبل، صدر ٹرمپ نے غیر قانونی امیگریشن اور نشہ آور دوا فینٹینائل میں استعمال ہونے والے کیمیائی مادوں کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے کئی ممالک سے زیادہ تعاون کو یقینی بنانے کے لیےکہا تھا کہ بصورت دیگر وہ اشیا کی درآمدات پر ٹیکس لگا سکتے ہیں۔

صدر نے ملکی پیداوار کو فروغ دینے اور وفاقی حکومت کی آمدنی بڑھانے کے لیے محصولات کے استعمال کا بھی وعدہ کیا تھا۔ خبرایجنسی نے اپنی رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان محصولات کے نتیجے میں امریکی صارفین کے لیے اشیا کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ نے اس سے پہلے کہا تھا کہ وہ کینیڈا اور میکسیکو سے درآمد کیے جانے والے ایندھن پر استثنیٰ جاری کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں وائٹ ہاوس کی پریس سیکرٹری لیویٹ نے جمعہ کو کہا کہ ان کے پاس کسی بھی ممکنہ رعایت کے بارے میں کہنے کو کچھ نہیں ہے۔

توانائی کی معلومات سے متعلق ادارے "انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن" کے مطابق امریکہ نے اکتوبر میں کینیڈا سے تقریباً 45 لاکھ بیرل اور میکسیکو سے پانچ لاکھ 63 ہزار بیرل یومیہ تیل درآمد کیا تھا۔ رواں ماہ کے دوران امریکی یومیہ پیداوار تقریباً ایک کروڑ 35 لاکھ بیرل یومیہ رہی۔

ٹرمپ اس سے قبل یہ کہہ چکے ہیں کہ چین سسے درآمدات پر 10 فیصد کا ٹیرف ان پر پہلے سے عائد دیگر درآمدی ٹیکسوں کے علاوہ ہوگا۔

کینیڈا اور میکسیکو کا ردعمل 

کینیڈا اور میکسیکو دونوں نے کہا ہے کہ انہوں نے جوابی ٹیرف کا آپشن تیار کیا ہوا ہےجسے اگر ضروری ہوا تو استعمال کیا جائے گا۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے جمعہ کو کہا کہ اگر ٹرمپ ٹیرف بڑھاتے ہیں تو کینیڈا جواب دینے کے لیے تیار ہے، لیکن انہوں نے تفصیلات نہیں بتائیں۔

میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے جمعہ کو کہا کہ میکسیکو نے ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ بات چیت کو برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میکسیکو کے پاس امریکی اقدامات کے مطابق "پلان اے، پلان بی، پلان سی موجود ہیں۔"

  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سٹیل، المونیم اور تانبے پر بھی ٹیرف لاگو ہوگا، یورپی یونین پر بھی ٹیرف لاگو کریں گے، ٹیرف کے نفاذ سے قلیل مدتی خلل پڑ سکتا ہے، ٹیرف کے نفاذ سے مارکیٹ کے ردعمل پر تشویش نہیں، روسی صدر سے بات کریں گے، کچھ اہم اقدامات کیلئے پرامید ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ روس کے ساتھ سنجیدہ بات چیت چل رہی ہے، بائیڈن انتطامیہ نے سرکاری اداروں کو کرپٹ کیا، بائیڈن دور میں وفاقی ملازم گھر بیٹھ کر تنخواہیں وصول کر رہے تھے، ایک ٹریلین ڈالر کے غیر ضروری اخراجات کی کٹوتی کی جا رہی ہے۔

امریکی صدر نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کا رویہ اچھا نہیں رہا، ٹیرف کے نفاذ پر کینیڈا، میکسیکو اور چین کچھ نہیں کرسکتے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے وائٹ ہاؤس نے یکم فروری سے میکسیکو اور کینیڈا پر25 اور چین پر 10فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

Watch Live Public News