ویب ڈیسک: امریکا نے دو دہائیوں سے زائد عرصے سے شام پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کر دی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پابندیاں ختم کرنے کے ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کر دیے، جس کے بعد شامی حکومت کی منجمد جائیداد بحال کیے جانے کا امکان ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان کے مطابق 2004 میں شام پر جو پابندیاں لگائی گئی تھیں، انہیں اب ہٹا دیا گیا ہے۔ تاہم ترجمان نے واضح کیا کہ سابق صدر بشارالاسد، داعش اور ایران سے منسلک مسلح گروہوں پر پابندیاں بدستور نافذ رہیں گی۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ واشنگٹن حکومت شام کو دہشت گردی کی معاون ریاست قرار دینے کے فیصلے پر بھی نظرِثانی کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیشرفت شام کی عالمی سطح پر معاشی تنہائی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگی، جس سے بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ادھر شامی وزیر خارجہ نے امریکی فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پابندیوں کا خاتمہ شام کی تعمیر نو، ترقی اور معیشت کی بحالی میں معاون ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق یہ اقدام عالمی برادری کے ساتھ شام کے تعلقات کی بحالی کا آغاز ہے۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ مئی میں سعودی عرب میں شام کے عبوری صدر احمد الشرع اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تاریخی ملاقات کے بعد سامنے آیا۔ یہ ملاقات گزشتہ 25 برسوں میں دونوں ملکوں کے سربراہان کے درمیان ہونے والی پہلی براہِ راست ملاقات تھی، جسے دو طرفہ تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔