ویب ڈیسک: مودی کا معاشی ماڈل نعروں تک محدود، درحقیقت بھارت کے سرمایہ دار طبقے کا مستقبل بھارت میں غیر محفوظ ہوگیا۔ 2025 کی ہینلی پرائیویٹ ویلتھ مائیگریشن رپورٹ نے بھارت کی معاشی صورتحال کا پردہ فاش کر دیا۔
ہینلی پرائیویٹ ویلتھ مائیگریشن رپورٹ 2025 کے مطابق:’’2025 میں بھارت سے تقریباً 3,500 ہائی نیٹ ورتھ افراد (HNWI) کا ملک چھوڑ کر جانے کا ارادہ‘‘۔بھارت میں بڑے پیمانے پر برین ڈرین مودی سرکار کی ناکام اقتصادی پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔بھارت میں برین ڈرین مالی نقصان کے ساتھ ساتھ بھارت کی انٹرپرینیورصلاحیتوں اور قیادت کی ایک بڑی کمی کا آغاز بھی ہے۔ مودی کے زیر قیادت بھارت کا ہنر مند طبقہ روز بروز کمزور ہوتا جا رہا ہے۔
ہینلی پرائیویٹ ویلتھ مائیگریشن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی سرکار کی ہندوتوا پالیسی کو ترجیح ملک کی ترقی کو قربان کر رہی ہے، نتیجاً سرمایہ دار طبقہ بھارت سے بھاگ رہا ہے۔بھارت میں سیاسی عدم استحکام، سماجی انتشار اور پالیسیوں پر عوام کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے۔ بھارتی اشرافیہ 26 ارب ڈالرز کی دولت کے ساتھ بیرون ملک منتقل ہونے کی تیاری میں مصروف ہے۔ بھارتی اشرافیہ برطانیہ امریکہ اور امارات جیسے ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔بھارت کی اقتصادی ترقی کے باوجود اشرافیہ کا ملک چھوڑنا معاشی پالیسیوں پر عدم اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔
مودی کے زیر قیادت حالیہ برسوں میں کارپوریٹ ٹیکس ریگولیٹری دباؤ اور سیاسی عدم استحکام نے سرمایہ دار طبقے میں بے چینی کو جنم دیا۔بھارت کی چمکتی معیشت صرف میڈیا کی زینت ہے زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ پاکستان معاشی مشکلات کے باوجود سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنے میں کامیاب ہوا ہے۔
مودی کے بلند و بانگ ترقی کے دعوے جھوٹ ثابت، ملک کے ارب پتی افراد مستقبل کے لیے مغرب کا رخ کرتے نظر آۓ۔