ویب ڈیسک: ٹرمپ نے صدارتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت کمیونسٹ نظام کے تحت چلنے والے ملک کیوبا کے خلاف ایک سخت امریکی پالیسی نافذ کی گئی ہے اور سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں کیے گئے اقدامات کو واپس لے لیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وائٹ ہاؤس کے مطابق اس نئی ہدایت میں امریکا کے شہریوں کے لیے کیوبا کے سیاحتی دوروں پر قانونی پابندی کو نافذ کیا گیا ہے، جبکہ ملک پر اقتصادی پابندیاں برقرار رکھنے کی حمایت کی گئی ہے۔اگرچہ امریکی شہریوں کے لیے تفریحی مقاصد کے تحت کیوبا جانا ممنوع ہے، لیکن تعلیمی یا انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کے لیے سفر کی اجازت دی گئی ہے جبکہ کیوبا کے افراد کے امریکہ میں داخلے پر بھی جزوی پابندیاں عائد کی ہیں۔
کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ آج امریکی حکومت کی جانب سے جاری کیا گیا صدارتی میمورنڈم کیوبا کے خلاف جارحیت اور اقتصادی ناکہ بندی کو مزید مضبوط کرتا ہے، جو پوری کیوبن قوم کو سزا دیتا ہے اور ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا یہ ایک مجرمانہ عمل ہے اور پوری قوم کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ہماری ترقی کی راہ میں بنیادی رکاوٹ یہی ہے۔