ویب ڈیسک: (علی زیدی) سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی چاول درآمد کرنے سے انکاری ہے، اور اس پر سخت ردعمل کے طور پر جاپانی برآمدات پر بھاری محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ "ٹروتھ سوشل" پر لکھا:"وہ ہمارا چاول نہیں لیتے، حالانکہ وہاں چاول کی شدید قلت ہے۔ لہٰذا ہم انہیں ایک خط بھیجیں گے... ہم جاپان کو ایک طویل عرصے سے تجارتی ساتھی کے طور پر چاہتے ہیں، لیکن یہ صورت حال ناقابل قبول ہے۔"
تاہم ٹرمپ کا یہ دعویٰ حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ امریکی مردم شماری بیورو کے تجارتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال جاپان نے امریکہ سے 298 ملین ڈالر مالیت کا چاول خریدا، جبکہ رواں سال جنوری سے اپریل کے درمیان 114 ملین ڈالر کا چاول برآمد ہوا۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ جاپان مستقبل میں امریکی چاول کی درآمد روکنے کا ارادہ رکھتا ہے یا نہیں۔ البتہ جاپانی چیف کیبنٹ سیکریٹری یوشی ماسا ہیاشی نے منگل کے روز کہا کہ ٹرمپ کے بیان سے حکومت باخبر ہے، تاہم انہوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ "ہم امریکہ کے ساتھ تجارتی بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں، اور مقصد یہ ہے کہ دونوں ممالک کے مفاد میں معاہدہ طے پائے۔"
پس منظر اور سابقہ رپورٹس:
2021 میں امریکی دفتر برائے تجارتی نمائندہ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جاپان میں چاول کی درآمد کا نظام سخت ریگولیٹڈ اور غیر شفاف ہے، جس کی وجہ سے امریکی برآمد کنندگان کو جاپانی صارفین تک حقیقی رسائی نہیں ملتی۔ ٹرمپ کا حوالہ ممکنہ طور پر اسی رپورٹ کی جانب تھا۔
ایک قریبی ذریعے کے مطابق، ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں کچھ ممالک کو خطوط بھجوانے کا عندیہ دیا ہے جس میں انہیں " نئے ٹیرف ریٹس" سے آگاہ کیا جائے گا۔ اسی تناظر میں اتوار کو فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے جاپان کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "ڈئیر مسٹر جاپان، آپ کی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف لگنے والا ہے۔"
ٹیرف کی مدت اور حالیہ صورتحال:
یاد رہے کہ ٹرمپ نے اپریل میں 90 دن کے لیے "ریسیپروکل ٹیرف" پر عمل درآمد کو معطل کیا تھا، جو 9 جولائی کو ختم ہو رہا ہے۔ معطلی سے پہلے جاپانی برآمدات پر کم از کم 24 فیصد ٹیرف عائد تھا، جبکہ اب وہ 10 فیصد کی عمومی شرح پر لاگو ہے۔
وائٹ ہاؤس کے نیشنل اکنامک کونسل ڈائریکٹر کیون ہیسٹ نے پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں۔ "کچھ بھی ختم نہیں ہوا، ابھی بات چیت ہو رہی ہے۔ اگر کسی فریم ورک پر اتفاق ہو بھی جائے، تب بھی تفصیلات طے کرنا باقی ہوں گی۔"