(ویب ڈیسک) بلوچستان کی مقامی آواز اور معروف سیاستدان سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتے ہوئے عالمی برادری سے ایک بڑا اور فوری مطالبہ کر دیا ہے۔
1: بی ایل اے بلوچستان اور اس کے عوام کی نمائندہ نہیں
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کے مطابق بی ایل اے کا بلوچستان کے حقوق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ تنظیم صوبے کی 70 فیصد سے زائد کثیر الجہتی غربت اور پسماندگی کا فائدہ اٹھاتی ہے۔یہ دہشتگرد گروہ 15 سے 25 سال کے معصوم نوجوانوں کو پروپیگنڈے، ان کے خاندانوں سے الگ کر نے اور تشدد کو بڑھا چڑھا کر دکھا کر گمراہ کرتا ہے۔ان نوجوانوں کو ذہنی طور پر مفلوج کر کے ' مجید بریگیڈ' کے لیے خودکش حملہ آوروں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
2: بلوچستان میں تشدد کی ہولناک لہر
سینیٹر نے بتایا کہ صوبے میں دہشتگردی کے نیٹ ورک نے معصوم شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا کر بدامنی پھیلائی ہے۔ سال 2024 میں دہشتگرد گروپوں نے بلوچستان میں938 حملے کیے، جو کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں 53 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ ان حملوں میں اموات کی تعداد 80 فیصد اضافے کے ساتھ 1,002 سے تجاوز کر گئی، جن میں سے سینکڑوں حملوں کی ذمہ داری اکیلی بی ایل اے نے قبول کی۔ مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کیا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد شہید ہوئے اور 300 سے زائد مسافروں کو یرغمال بنایا گیا۔ مجید بریگیڈ نے ایک ہی سال کے اندر ایک غیر مرکزی اور منظم ماڈل کے تحت 6 بڑے خودکش حملوںکو انجام دیا۔
3: بیرونی فنڈنگ اور علاقائی عدم استحکام کا آلہ کار
مضمون میں واضح کیا گیا ہے کہ بی ایل اے کوئی مقامی تحریک نہیں بلکہ ایک منظم دہشتگرد انٹرپرائز ہے۔ اس تنظیم کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے۔کلبھوشن یادیو کا کیس اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اسے بھارتی انٹیلیجنس کی پشت پناہی حاصل ہے۔ مزید یہ کہ اب اس کے فتنہ الخوارج (TTP) کے ساتھ بھی خطرناک تزویراتی تعلقات قائم ہو چکے ہیں۔
4: عالمی اور اقتصادی مفادات کو سنگین خطرات
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ بی ایل اے کی دہشتگردی صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ یہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرہ ہے بلوچستان میں موجود تانبے، سونے اور نایاب معدنیات (Rare-Earth Minerals) میں امریکی اور عالمی تزویراتی مفادات کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری(CPEC) کے اربوں ڈالرز کے بنیادی ڈھانچے، بندرگاہوں، سڑکوں اور پائپ لائنوں پر حملے کر کے عالمی ترقی کے سفر کو روکا جا رہا ہے۔
5:عالمی پابندیاں اور اقوامِ متحدہ (UN) کا دہرا معیار؟
ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور آسٹریلیا پہلے ہی بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشتگرد نامزد کر چکے ہیں جبکہ امریکا نے 2025 میں اسے مکمل دہشتگرد تنظیم (FTO) قرار دیا۔ پاکستان اور چین کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی 1267 فہرست میں اسے شامل کرنے کی تجویز کو تکنیکی بنیادوں (القاعدہ/داعش سے براہ راست لنک نہ ہونے) پر مسترد کر دیا گیا، جسے مصنفہ نے جیو پولیٹکس اور بھارتی اثر و رسوخ کا نتیجہ قرار دیا۔سینیٹر نے زور دیا کہ پاکستان کو سلامتی کونسل کی قرارداد 1373 کے تحت مزید ٹھوس شواہد اکٹھے کر کے عالمی برادری کے سامنے پیش کرنے چاہئیں۔
6: حتمی حل اور پائیدار امن کا راستہ
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کے مطابق بلوچستان میں امن کے لیے دو رخی حکمتِ عملی ناگزیر ہے:
1۔عالمی سطح پر گھیرا تنگ کرنا:
اقوامِ متحدہ فوری طور پر بی ایل اے پر 1267 کے تحت پابندی لگائے تاکہ ان کی فنڈنگ کے راستے بند ہوں، قیادت کی نقل و حرکت پر پابندی لگے اور ان کی نام نہاد ساکھ ختم ہو۔
2۔ داخلی اصلاحات:
اس فوجی اور سفارتی کارروائی کے ساتھ ساتھ حکومت کو بلوچستان میں طرزِ حکمرانی میں اصلاحات، سیاسی شمولیت، معاشی سرمایہ کاری اور تاریخی شکایات کا ازالہ کرنا ہوگا تاکہ بلوچ نوجوانوں کو اس گمراہی سے ہمیشہ کے لیے بچایا جا سکے۔