(ویب ڈیسک ) بنگلہ دیش میں ایک تاریخی اور اہم تبدیلی کے تحت شیخ مجیب الرحمٰن کی تصویر ملک کی کرنسی نوٹوں سے ہٹا دی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، بنگلہ دیش کے مرکزی بینک نے نئے ڈیزائن کے ساتھ کرنسی نوٹوں کی نئی سیریز جاری کی ہے۔ ان نوٹوں میں اب شیخ مجیب الرحمٰن کی تصویر شامل نہیں ہے، جو کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہر نوٹ پر موجود تھی۔
نئے نوٹ 20، 50، اور 1000 ٹکہ کے جاری کیے گئے ہیں، جن پر اب بنگلہ دیش کے قدرتی مناظر اور تاریخی مقامات کی تصاویر شامل کی گئی ہیں۔ یہ قدم ایک بڑی روایت کو ختم کرنے کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔
یہ تبدیلیاں اُس وقت کے بعد آئی ہیں جب شیخ حسینہ واجد کی 16 سالہ حکومت، جو آمرانہ سمجھی جاتی تھی، ملک گیر طلبہ مظاہروں کے بعد ختم ہو گئی۔ شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد وہ بھارت فرار ہو گئی تھیں۔
نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت نے ملک میں کئی بڑے فیصلے کیے ہیں، جن میں کرنسی نوٹوں سے شیخ مجیب کی تصویر ہٹانے کے ساتھ ساتھ شیخ مجیب کی سالگرہ کی عام تعطیل بھی ختم کر دی گئی ہے۔
عبوری حکومت نے سرکاری دفاتر سے شیخ مجیب کی تصاویر ہٹوا دی ہیں اور نصاب میں اُنہیں واحد بانی کے طور پر پیش کرنے کا مواد بھی نکال دیا گیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ "جَے بنگلہ" کے نعرے کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، نئے نوٹ حالیہ انقلابی تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں اور انہیں ملک کی نئی قومی شناخت بنانے کی کوشش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ تمام تبدیلیاں ماضی سے واضح لاتعلقی کا اظہار ہیں اور اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ عبوری حکومت ملک کو ایک نئے راستے پر ڈالنا چاہتی ہے، جو کہ شیخ مجیب الرحمٰن اور اُن کے خاندان کی سیاسی وراثت سے آزاد ہو۔