ویب ڈیسک: قومی ہیرو ارشد ندیم ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں جھنڈے گاڑنے کے بعد جنوبی کوریا سے وطن واپس پہنچ گئے، لاہور ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے کہا سب سے پہلے اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں، ماں باپ کی دعاوں اور میڈیا کا بھی شکرگزار ہوں جس کی وجہ سے مجھے ایک بار پھر گولڈ میڈل سے نوازا۔
قومی ہیرو ارشد ندیم نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے کوچ کی محنت تھی جس کا یہ نتیجہ تھا، میرا گول ہے کہ ورلڈ ایتھلیٹک چیمپئن شپ میں بھی گولڈ میڈل حاصل کروں۔
گولڈ میڈل کا تمغہ قابل اعزاز ہوتا ہے چاہے 70 میٹر کی تھرو پر مل جائے، ایشیا چیمپئن شپ میں تقرہبا 50 سال بعد ہمیں گولڈ میڈل واپس آیا ہے۔
قومی ہیرو کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو جیولن تھرو کے کیمپس کی سہولیات دیں گے تاکہ مستقبل میں مزید ٹیلنٹ سامنے آئے، پاکستان میں گرم موسم کی وجہ سے ممکن ہے ٹریننگ کے لیے یوکے جاؤں تاکہ ورلڈ اتھلیٹ چیمپئن شپ کی بہتریں تیاری کرسکوں۔
جب فلائٹ سے نیچے اترا تو گورنمنٹ پنجاب سمیت سپورٹس بورڈ اور لیسکو چیف نے بھی میرا استقبال کیا۔
قومی ہیرو نے مزید کہا کہ ’میں بھی قوم کی طرح اپنی پاک افواج کے ساتھ کھڑا ہوں،پاکستان زندہ باد!، ارشد ندیم پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور ڈھول کی تھاپ پر استقبال کیا گیا۔