ویب ڈیسک: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ڈاکٹروں نے شہریوں کوخصوصاً 50 سال سے زائد عمر کے افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی روٹین ویکسینیشن کے حصے کے طور پر شنگلز (Shingles) ویکسین ضرور لگوائیں۔
یہ ہدایت ایک نئی تحقیق کے بعد سامنے آئی ہے جو IDWeek 2025 میں پیش کی گئی۔تحقیق کے مطابق جن بالغ افراد نے شنگلز ویکسین لگوائی، ان میں مختلف سنگین بیماریوں کا خطرہ نمایاں حد تک کم پایا گیا۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق’ واسکولر ڈیمینشیا (دماغی کمزوری) کا خطرہ 50 فیصد کم ہوا، خون کے لوتھڑے بننے کا امکان 27 فیصد کم ہوا، دل کے دورے یا فالج کا خطرہ 25 فیصد کم ہوا، اور موت کے مجموعی خطرے میں 21 فیصد کمی دیکھی گئی، جب ان افراد کا موازنہ ان لوگوں سے کیا گیا جنہوں نے صرف نیوموکوکل ویکسین لگوائی تھی۔
شنگلز کیا ہے؟
دبئی کی ڈاکٹر شہرزاد مجتبی نائینی کے مطابق شنگلز ایک بیماری ہے جو ویری سیلا زوسٹر وائرس (وہی وائرس جو چکن پاکس کا باعث بنتا ہے) کے دوبارہ فعال ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔
یہ بیماری جلد پر تکلیف دہ دانے اور چھالے پیدا کرتی ہے، جو بعض اوقات کئی ماہ تک رہ سکتے ہیں۔ شنگلز کے باعث شدید درد، نیند میں خلل، بینائی یا اعصابی مسائل بھی ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر کے مطابق، مرد اور خواتین دونوں شنگلز کا شکار ہو سکتے ہیں، لیکن 50 سال کی عمر کے بعد یا کمزور مدافعتی نظام والے افراد میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
یو اے ای میں بڑھتی عمر کی آبادی کے باعث اس بیماری کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔
2022 کی تحقیق کے مطابق’ 50 سال سے زائد عمر کے 64 فیصد افراد شنگلز وائرس کا شکار ہوئے تھے، صرف 15 فیصد کو ویکسین کے بارے میں معلومات تھیں،اور محض 4 فیصد نے ویکسین لگوائی تھی۔
وزارتِ صحت (MoHAP) نے شہریوں سے ہدایت کی کہ تمام 50 سال سے زائد عمر کے افراد اور کمزور مدافعتی نظام والے مریض شنگلز ویکسین لازمی لگوائیں تاکہ بیماری اور اس کی پیچیدگیوں سے محفوظ رہ سکیں۔