ویب ڈیسک: امریکہ میں حکومتی فنڈز کی کمی کے باعث شٹ ڈاؤن شروع ہو گیا ہے، جس سے دنیا کی سب سے بڑی معیشت پر مزید غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ اس صورتحال کا اثر خلیجی ممالک، بھارت اور بنگلہ دیش میں موجود امریکی سفارتخانوں اور قونصل خانوں کی سرگرمیوں پر بھی پڑ رہا ہے۔
امریکی مشن برائے متحدہ عرب امارات نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اعلان کیا کہ حکومتی فنڈز کی کمی کے دوران سفارتخانے کے اکاؤنٹس باقاعدگی سے اپ ڈیٹ نہیں کیے جائیں گے۔ البتہ ہنگامی صورتِ حال اور سکیورٹی سے متعلق اہم معلومات فراہم کی جاتی رہیں گی۔
ابوظہبی میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ’’ فنڈز کی کمی کی وجہ سے یہ اکاؤنٹ باقاعدگی سے اپ ڈیٹ نہیں کیا جائے گا، تاہم فوری سکیورٹی اور سیفٹی سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں گی۔‘‘
Due to the lapse in appropriations, this X
— US Mission to UAE (@USAinUAE) October 1, 2025
account will not be updated regularly until full operations resume, with the exception of urgent safety and security information. pic.twitter.com/lFEUyzSezm
اسی طرح کے اعلانات سعودی عرب، قطر، عمان، بحرین، بھارت اور بنگلہ دیش میں امریکی سفارتی مشنز کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی کیے گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ امریکی وفاقی اداروں کے فنڈنگ بحران کے جواب میں ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت لیا گیا ہے۔
At this time, scheduled passport and visa services in the United States and at U.S. Embassies and Consulates overseas will continue during the lapse in appropriations as the situation permits. We will not update this account until full operations resume, with the exception of…
— U.S. Embassy India (@USAndIndia) October 1, 2025
اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی سفارتخانوں میں پاسپورٹ اور ویزا جیسی خدمات متاثر ہو سکتی ہیں، جبکہ آن لائن اور سوشل میڈیا پر معلومات کی فراہمی محدود رہے گی۔
غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا میں حکومت ایک بار پھر شٹ ڈاؤن (بند) ہو گئی ہے کیونکہ ریپبلکن اور ڈیموکریٹس وفاقی فنڈنگ پر معاہدہ کرنے میں ناکام رہے، یہ شٹ ڈاؤن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں تقریباً 7 سال بعد ایک بار پھر رونما ہوا ہے۔
اگرچہ ریپبلکن جماعت کو کانگریس کے دونوں ایوانوں اور صدارت پر کنٹرول حاصل ہے لیکن وفاقی فنڈنگ کا بل منظور کرنے کے لیے 60 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں حاصل نہ ہو سکے۔