(ویب ڈیسک) وفاقی وزیرِ خزانہ نے ملک بھر کے تاجروں کے لیے متعارف کرائی گئی ' آسان ٹیکس اسکیم' کے حوالے سے سخت قانونی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسکیم کا حصہ نہ بننے والے نادہندہ تاجروں کے خلاف قانون کے مطابق بلا رعایت انفورسمنٹ عمل میں لائی جائے گی۔
وزیرِ خزانہ نے اعلان کیا کہ پارلیمنٹ سے باقاعدہ منظور شدہ اس قانون پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف اب سخت قانونی شقوں کا اطلاق ہوگا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ قانون کی پاسداری نہ کرنے کی صورت میں تاجروں کی دکانیں سیل کرنے، بھاری جرمانے عائد کرنے اور دیگر تمام قانونی سزائیں نافذ کرنے کے لیے انفورسمنٹ شروع کی جا رہی ہے۔
وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ یہ اسکیم کسی یکطرفہ فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر ملک بھر کے تاجروں اور چیمبرز کو مکمل اعتماد میں لے کر تیار کی گئی تھی۔تمام تر شرائط اور طریقہ کار تاجر برادری سے باہمی مشاورت کے بعد ہی طے پائے تھے، لہٰذا اب اس پر عملدرآمد سے فرار ممکن نہیں۔
پیٹرولیم لیوی کے خاتمے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیرِ خزانہ نے براہِ راست مؤقف دینے سے گریز کیا۔تاہم، انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر عمومی ریلیف کے بجائے معاشرے کے کمزور اور خاص طبقے کو براہِ راست ٹارگیٹڈ سبسڈی فراہم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔