ویب ڈیسک: روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ الاسکا میں ہونے والی ملاقات کے دوران یوکرین بحران کے حل کے لیے کچھ سمجھوتے طے پائے ہیں۔
ایس سی او کے سربراہان مملکت کے عمومی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ روس اس مسئلے کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے اور چین کی تجاویز کو خاص اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا: "ہم چین کی ان کوششوں اور تجاویز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو یوکرین کے بحران کے حل کے لیے دی گئی ہیں۔ الاسکا میں امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے بھی اس مقصد کے حصول میں معاون ثابت ہوں گے۔"
پیوٹن کے مطابق وہ ان نتائج پر چین کے صدر شی جن پنگ سمیت دیگر عالمی رہنماؤں سے بات کر چکے ہیں اور اجلاس کے دوران دو طرفہ ملاقاتوں میں مزید تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔
روسی صدر نے ایک بار پھر مغربی ممالک پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کی کوششیں بحران کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ جنگ کسی اچانک حملے کا نتیجہ نہیں بلکہ کیف میں ہونے والی بغاوت کا تسلسل ہے جسے مغربی اتحادیوں نے سہارا دیا۔
انہوں نے زور دیا کہ روس اس اصول پر کاربند ہے کہ کوئی بھی ملک اپنی سلامتی دوسرے کی قیمت پر یقینی نہیں بنا سکتا۔ ان کے بقول یوکرین بحران کی جڑوں کو سمجھنا اور سلامتی کا توازن قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے چارٹر اور ریاستوں کی خودمختاری کا حوالہ دیتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ یہ اصول آج بھی اتنے ہی ضروری ہیں جتنے ماضی میں تھے۔
خیال رہے کہ اگست میں الاسکا میں ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان 3 گھنٹے طویل ملاقات ہوئی تھی، جسے دونوں رہنماؤں نے مثبت اور تعمیری قرار دیا۔ ٹرمپ نے بھی گفتگو کو ’’انتہائی نتیجہ خیز‘‘ کہا تاہم اعتراف کیا کہ ابھی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا۔