اسلام آباد ہائیکورٹ کا عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھنے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ کا عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھنے کا حکم
کیپشن: اسلام آباد ہائیکورٹ کا عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھنے کا حکم

ویب ڈیسک: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جیل میں مبینہ قیدِ تنہائی میں رکھنے کے خلاف درخواستیں ہدایات کے ساتھ نمٹا دیں اور جیل حکام کو دونوں کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھنے کی ہدایت کردی

جسٹس خادم حسین سومرو نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔ عمران خان کی جانب سے علیمہ خان جبکہ بشریٰ بی بی کی جانب سے مبشرہ خاور مانیکا نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت کی کہ وہ یقینی بنائیں کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے۔ فیصلے میں بشریٰ بی بی کی عمران خان سے ملاقات کرانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

عدالت نے جیل قوانین کے مطابق عمران خان کی اہلِ خانہ سے ملاقاتیں کرانے اور ان کے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کی سہولت فراہم کرنے کا حکم بھی دیا۔فیصلے کے مطابق عمران خان کو روزانہ اخبارات اور کتابیں فراہم کی جائیں جبکہ جیل رولز کے مطابق انہیں طبی سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔عدالت نے ہدایت کی کہ عمران خان کی آڈیو ریکارڈنگ کا غلط استعمال ثابت ہونے کی صورت میں یہ سہولت واپس لی جا سکتی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نصرت بھٹو کیس اور بیگم شمیم آفریدی کیس کے فیصلوں کی روشنی میں درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔عدالت نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کی رپورٹ 15 روز کے اندر جمع کرائی جائے۔

Watch Live Public News