ویب ڈیسک: چین کے چھٹی نسل کے جنگی طیارے 'جے-36' کی نئی اور اہم تصاویر منظرِ عام پر آگئی ہیں، جن میں پہلی بار طیارے کو سامنے سے دکھایا گیا ہے۔ اس تصویر نے ماہرین کی اس رائے کی تصدیق کر دی ہے کہ یہ طیارہ نہ صرف جسامت میں بڑا ہے بلکہ اس کا ڈیزائن بھی جدید تقاضوں کے مطابق ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تصویر میں بڑے سائز کا ببل نما شفاف کیبن (canopy) واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے جو طیارے کی چوڑی ناک (nose section) کے اوپر نصب ہے۔ اس کیبن کے نیچے دو پائلٹ ساتھ ساتھ بیٹھتے ہیں، جو اس سے قبل روسی طیارے Su-34 اور امریکی F-111 میں دیکھے جانے والے ڈیزائن سے مشابہت رکھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طیارے میں تین انجنوں کا نظام موجود ہے، جس کی نشاندہی تصویر میں نظر آنے والے بالائی انٹیک (dorsal inlet) اور بڑا ڈی ایس آئی ہمپ (diverterless supersonic inlet) سے ہوتی ہے۔
طیارے کی غیرمعمولی جسامت اور ڈیزائن
نئی تصویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ طیارہ روایتی طیاروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑا ہے، خاص طور پر جب اسے سامنے سے دیکھا جائے۔ پہلے کی تصاویر میں اس کا ڈیلٹا نما وِنگ ڈیزائن (modified delta planform) نمایاں تھا، لیکن اب سامنے سے نظر آنے والا منظر طیارے کی اصل جسامت اور وزن کو ظاہر کرتا ہے۔
تصویر کی صداقت کی باقاعدہ تصدیق تو نہیں ہوئی، لیکن ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی چینی طیاروں کی لیک ہونے والی تصاویر کی روایت برقرار ہے، جو ممکنہ طور پر طیارے کی آزمائشی پرواز کے بعد سامنے آئی ہیں۔
شینیانگ کے چھٹے نسل کے دوسرے طیارے 'جے-50' کی تفصیلات بھی لیک:
دوسری جانب چین کے ایک اور چھٹی نسل کے طیارے، جسے غیر رسمی طور پر 'جے-50' یا 'جے-ایکس ڈی ایس' کہا جا رہا ہے، کی بھی نئی تصاویر منظر عام پر آئی ہیں۔ ان میں طیارے کے نیچے کا حصہ، سائیڈ ویو، اور ہتھیار رکھنے کے خانے (weapons bay) واضح نظر آ رہے ہیں۔
تصاویر سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ طیارہ ایک ہی پائلٹ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جبکہ اس میں جدید اےای ایس اے ریڈار (AESA Radar) اور ای او/آئی آر سینسر کی تنصیب کی گنجائش بھی موجود ہے۔ طیارے کے وِنگ ٹپس پر موجود کنٹرول سرفیسز جو گھوم سکتی ہیں، بھی نمایاں دکھائی دیتی ہیں۔
یہ تصاویر دسمبر 2024 میں سامنے آنے والی ابتدائی ویڈیوز اور تصاویر کے تسلسل کا حصہ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ رواں سال گرمیوں تک ان طیاروں کی مکمل تفصیلات اور مختلف زاویوں سے مزید تصاویر سامنے آ سکتی ہیں۔