ستلج، راوی اور چناب میں تباہ کن سیلابی ریلوں کا خدشہ، این ڈی ایم اے کا ہائی الرٹ

ستلج، راوی اور چناب میں تباہ کن سیلابی ریلوں کا خدشہ، این ڈی ایم اے کا ہائی الرٹ
کیپشن: ستلج، راوی اور چناب میں تباہ کن سیلابی ریلوں کا خدشہ، این ڈی ایم اے کا ہائی الرٹ

ویب ڈیسک: شدید بارشوں اور بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان کے بڑے دریاؤں میں طغیانی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے) نے ستلج، راوی اور چناب میں مزید بڑے ریلوں کے خدشے کے پیش نظر سیلاب الرٹ جاری کردیا۔

ہیڈ تریموں پر دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 41 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا، جس سے اطراف کی بستیاں ڈوب گئیں، جبکہ ہیڈ محمد والا سے 6 سے 7 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

ستلج میں ہیڈ گنڈا سنگھ پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 53 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، راوی میں ہیڈ بلوکی پر 1 لاکھ 48 ہزار کیوسک کے ساتھ انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ درجنوں بستیاں زیر آب آنے سے بڑے پیمانے پر فصلوں کو نقصان پہنچا۔ ہیڈ سدھنائی پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 5 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔

ماڑی پتن میں متعدد گھر زمین بوس ہوگئے، ملتان میں چناب کے ریلے 138 بستیوں تک جا پہنچے، ہزاروں ایکڑ کپاس سمیت دیگر فصلیں تباہ ہوگئیں۔ اوکاڑہ میں راوی کے ریلوں نے کئی دیہات کو ڈبو دیا۔

این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں کے عوام کو بھی احتیاطی تدابیر اپنانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

چناب،راوی اور ستلج میں سیلاب سے41اموات: 

پی ڈی ایم اے کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں سیلابی صورتحال سے 3 ہزار 129 دیہات متاثر ہوئے، ریلوں نے 24 لاکھ 8 ہزار آبادی کو متاثر کیا، مختلف مقامات پر 390 فلڈ ریلیف اور 389 میڈیکل کیمپس قائم کر دیئے گئے، ہزاروں متاثرہ خاندانوں کو پناہ فراہم کی گئی۔

متاثرہ علاقوں سے بڑے پیمانے پر انخلا، 9 لاکھ 32 ہزار 323 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، 6 لاکھ 48 ہزار 62 مویشیوں کو سیلاب متاثرہ علاقوں سے نکالا گیا، چناب نے سب سے زیادہ 1 ہزار 578 دیہات کو متاثر کیا۔

پی ڈی ایم اے کے جاری اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ راوی کے سیلاب سے 1 ہزار 33 اور ستلج کے 518 مواضع متاثر ہوئے۔

Watch Live Public News