ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی قریبی اتحادی اور اٹارنی جنرل پام بونڈی کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق یہ فیصلہ بونڈی کی کارکردگی اور جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے کیس سے متعلق تنازعات کے بعد سامنے آیا۔ پام بونڈی کی جگہ سابق ذاتی وکیل ٹوڈ بلانچ کو قائم مقام اٹارنی جنرل مقرر کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ محکمہ انصاف پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق برطرفی کے دو اہم عوامل تھے: ایک، ایپسٹین کیس سے متعلق لاکھوں صفحات پر مشتمل ریکارڈ کی ریلیز میں مبینہ بدانتظامی؛ اور دوسرا، صدر ٹرمپ کی مایوسی کہ بونڈی ان کے سیاسی مخالفین کے خلاف فوری قانونی کارروائی نہیں کر رہی تھیں۔
صدر ٹرمپ نے بونڈی کو "عظیم محب وطن" قرار دیا اور کہا کہ وہ اب نجی شعبے میں کام کریں گی، جبکہ بونڈی نے اپنے عہدے کو "زندگی کا سب سے بڑا اعزاز" قرار دیتے ہوئے اگلے ماہ چارج چھوڑنے کا اعلان کیا۔
خیال رہے کہ بدھ کے روز دونوں کے درمیان ہونے والی ایک اہم ملاقات میں ٹرمپ نے واضح اشارہ دیا کہ وہ جلد انہیں تبدیل کرنے والے ہیں۔