ویب ڈیسک: نریندر مودی اور ہندوستان نے ہندوتوا شناخت پر وال اسٹریٹ جرنل نے کھلی چارج شیٹ رپورٹ کردی ہے۔
عالمی جریدے کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی اقلیت بھی بدترین صورتحال کا شکار ہے۔ہندوستان کا مشن ہندوتوا عالمی سطح پر باعث شرمندگی بن گیا ہے۔معتبر عالمی جریدے نے بی جے پی حکومت کی جمہوریت کی قلعی اتار پھینکی ہے۔
جریدے نے واضح لکھا ہے کہ مودی حکومت فاشسٹ ہے۔ مودی حکومت صرف ہندو اکثریت کی ترجمان ہے۔ بی جے پی حکومت اقلیتوں سے مذہبی اور نسلی امتیاز برت رہی ہے۔نریندر مودی کے دور میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد میں خطرناک اضافہ ہوا۔ 2014 کے بعد مودی کے ہندوستان میں مسلمان رہائش، ملازمت، تعلیم اور ووٹ کے حق تک امتیاز کا شکار ہیں۔ بھارت کا سیکولر دعویٰ بے نقاب ہو چکا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ صرف 2.3 فیصد آبادی ہونے کے باوجود عیسائی بھی ہندوتوا تشدد کی زد میں ہیں، 2025 میں 706 اینٹی کرسچن واقعات ریکارڈ ہوئے۔گرجا گھروں پر حملے، عبادات پر تشدد، کرسمس کی علامتوں کی توڑ پھوڑ ہوئی مگر مودی دانستہ خاموش رہا۔ مودی کا چرچ جانا مگر حملوں کی مذمت نہ کرنا، شدت پسند ہندو عناصر کے لیے واضح سرکاری اشارہ ہے۔ اینٹی کنورژن قوانین، پولیس کی بے عملی اور ریاستی رویہ، اقلیتوں کے خلاف تشدد کو عملی تحفظ فراہم کر رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں سیکولر ازم اب محض نعرہ، اقلیتیں پورے ملک میں علامتی اور منظم تشدد کا شکار ہیں۔ مودی کا بھارت فل کلاس جمہوریت نہیں، فل کلاس اکثریتی ریاست بن چکا ہے۔ بھارت میں خوف اقلیتوں کی شناخت بن گیا ہے۔ نریندر مودی کے دور میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد معمول بنتا جا رہا ہے۔ بھارتی انسانی حقوق تنظیم کے مطابق کرسمس پر حملے منظم اور پر تشدد تھے۔ یونائیٹڈ کرسچن فورم کے مطابق عیسائیوں پر حملے 2014 میں 139 سے بڑھ کر 2024 میں 834 ہو گئے۔ 2025 میں نومبر تک بھارت میں عیسائیوں پر 706 حملے ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کرسمس 2025 بھارت میں مذہبی انتہاپسندی کا قومی فلیش پوائنٹ بن گیا۔ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے کرسمس کے دن اسکول کھلے رکھنے کے احکامات دیے۔ اترپردیش میں گرجا گھروں کے باہر ہجوم، “ عیسائی مشنریوں کو موت” کے نعرے۔ مدھیہ پردیش میں بی جے پی رہنما کا چرچ پر دھاوا، نابینا خاتون پر تشدد۔ چھتیس گڑھ میں شاپنگ مال میں کرسمس سجاوٹ توڑی گئی، سانتا کلاز کی مورتیاں مسمار۔
امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے بھارت کو“Country of Particular Concern” قرار دینے کی سفارش کی۔بھارت میں مذہبی تشدد پر ریاستی خاموشی، انتہا پسندوں کو کھلی چھوٹ کا اشارہ ہے۔ مودی نے ملک بھر میں عیسائیوں پر حملوں کی مذمت نہیں کی۔بھارت میں سیکولرازم مودی دور میں عملی طور پر ختم ہو چکا ہے۔
مولاناطاہراشرفی کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی نے پر تشدد گروپس کی مذمت کی زحمت بھی نہ کی-
بشپ سرفرازپیٹر نے کہا کہ پاکستان میں کرسمس پر پوری قوم مسیحی بھائیوں کی خوشیوں میں شریک ہوئی-
کھیل داس کوہستانی نے کہا کہ بی جے پی حکومت اقلیتوں کیخلاف نفرت کی سیاست کر رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق دنیا کی نظریں بھارتی حکومت کے رویے پر ہیں - بھارتی حکومت اقلیتوں کیخلاف روئیے سے سفارتی طور پر تنہا ہو رہی ہے-
بشپ آزاد مارشل کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت خود کو کرسمس پر ہونے والی تباہی سے بری الزمہ قرار نہیں دے سکتی۔