ویب ڈیسک: پہلگام فالس فلیگ حملے کے بعد مقبوضہ کشمیر کے عوام خصوصاً بزرگ شہریوں نے بھارتی فوج اور میڈیا کی کارکردگی اور نیت پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایک کشمیری بزرگ کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں انہوں نے بھارتی میڈیا کی جانب سے کیے گئے الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے انہیں "ڈرامہ باز" قرار دیا۔
تفصیلات کے مطابق ذرائع کا کہناہےکہ کشمیری بزرگ کا کہنا تھا: "بند کرو یہ ڈرامہ بازی، اب میڈیا پہلگام میں نہیں آنا چاہیے"۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "بھارت نے 11 لاکھ فوج کشمیر میں تعینات کر رکھی ہے، اتنی بڑی فوج کے باوجود اگر ایسا واقعہ ہوتا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ فوج کر کیا رہی ہے؟ کیا فوج نے چوڑیاں پہن رکھی ہیں؟"
بزرگ شہری نے فالس فلیگ حملے کو "پیسے کا کھیل" قرار دیا اور کہا کہ "ایسا کام وہی انسان کرے گا جو لالچی ہو، بے ایمان ہو، ایماندار شخص کبھی ایسا کام نہیں کرے گا"۔ ان کے مطابق حملہ آوروں کو ڈھونڈنا حکومت اور اداروں کا کام ہے، عوام کو اس الزام سے بدنام نہ کیا جائے۔
حملے کے وقت مبینہ طور پر ہندوؤں کو قتل کرتے ہوئے کلمہ پڑھنے سے متعلق سوال پر بزرگ شہری نے واضح کیا:"دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں، کیوں کوئی پڑھائے گا کلمہ؟ یہ سب ایک منصوبہ بند سازش ہے"۔
انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ "بھارت میں دہشتگردی کی تاریخ نئی نہیں، ماتما گاندھی، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کو مارنے والے مسلمان نہیں تھے، انہیں انہی کے لوگوں نے مارا تھا"۔
سیاسی تجزیہ کاروں نے کشمیری بزرگ کی گفتگو کو "پہلگام فالس فلیگ کی سب سے بڑی گواہی" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی مذہب کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ بنا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے فالس فلیگ حملوں کا مقصد صرف الیکشن جیتنا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانا ہے۔